Barchi na khenchna
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
بولے پدر سے اکبر برچھی نہ کھینچنا
ہے جان اب لبوں پر برچھی نہ کھینچنا
بابا نظر کو پھیر لو دم ٹوٹنے لگا
برچھی کے پھل سے خون ہے دل کا رُکا ہوا
اُبلے گا خوں زمین پر برچھی نہ کھینچنا
بولے پدر سے اکبر ۔۔۔
میں نے تمہیں بُلایا تھا تا کہ میں کہہ سکوں
بالکل نہ غم کرو میرے دل کو ہے اب سکوں
بیٹھے رہو یہاں مگربرچھی نہ کھینچنا
بولے پدر سے اکبر ۔۔۔
اماں کو یہ خبر نہ ہو میرے سِناں لگی
غش آ گیا ہے بس ذرا شدت کی پیاس کی
میں آ رہا ہوں جاؤ گھر برچھی نہ کھینچنا
بولے پدر سے اکبر ۔۔۔
بولے حسین باپ کو بہلا رہے ہیں آپ
معلوم ہے کے یہاں سے کہاں جا رہے ہیں آپ
کہتے ہو منہ کو پھیر کربرچھی نہ کھینچنا
بولے پدر سے اکبر ۔۔۔
سانسیں اُکھڑ رہی تو مدہم ہے نبض بھی
کرتے ہو آہ ہم کو ہے تاکید صبر کی
کہتے ہو تھام کے جگربرچھی نہ کھینچنا
بولے پدر سے اکبر ۔۔۔
اکبر پُکارے باپ سے دل کو سنبھالیئے
ٹوٹی سِناں کلیجے میں رہنے ہی دیجیئے
نکلے گا ساتھ میں جگربرچھی نہ کھینچنا
بولے پدر سے اکبر ۔۔۔
مولا نے یا علی کہا دل کو سنبھال کر
پھر خود ہی لڑکھڑا گئے برچھی نکال کر
کہتا رہا جواں پسر برچھی نہ کھینچنا
بولے پدر سے اکبر ۔۔۔
ریحان ساتھ برچھی کے دل بھی نکل پڑا
پڑھتے رہے حسین بھی تا دیر مرثیہ
ماں کہتی آئی ننگے سربرچھی نہ کھینچنا
بولے پدر سے اکبر ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.