Bano ka ye nauha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Mir Hasan Mir
بانو کا یہ نوحہ تھا آجاؤ علی اکبر
آجاؤ میرا بیٹا آجاؤ علی اکبر
ہے گھیرے ہوے لشکر احمد کے نواسے کو
مظلوم مسافر کو سہہ روز کے پیاسے کو
تنہا ہے شہ والا آجاؤ علی اکبر
بانو کا یہ نوحہ تھا۔۔۔
تلواروں کی ضد پر ہے اس وقت میرے والی
آقا سے میرے دنیا ہوجاے نہ یہ خالی
لٹ جاے نہ گھر میرا آجاؤ علی اکبر
بانو کا یہ نوحہ تھا۔۔۔
اس غمزدہ مادر کو اب اور نہ تدپاؤ
جس نے تمہیں پالا ہے کچھ اس پہ ترس کھاؤ
کیوں روٹھ گےء بیٹا آجاؤ علی اکبر
بانو کا یہ نوحہ تھا۔۔۔
ظالم کی جفاؤں سے بے حال جو بچے ہیں
دے کر تمہیں آوازیں روتے ہیں تڑپتے ہیں
کہرام ہے اک برپا آجاؤ علی اکبر
بانو کا یہ نوحہ تھا۔۔۔
گھر لوٹ چکے ظالم اب خیمے جلاتے ہیں
مظلوموں یتیموں کو ہنس ہنس کے رلاتے ہیں
کرتے ہے ستم آجاؤ علی اکبر
بانو کا یہ نوحہ تھا۔۔۔
سادات کے خیموں سے اٹھتا ہے دھواں ہاے
سجاد کی گردن میں ہے طوقِ گراں ہاے
زینب ہے رسن بستہ آجاؤ علی اکبر
بانو کا یہ نوحہ تھا۔۔۔
میں کب سے بلاتی ہوں کیوں سنتے نہیں اکبر
اب دشت مصیبت میں چھنتی ہے میری چادر
ہے وقت قیامت کا آجاؤ علی اکبر
بانو کا یہ نوحہ تھا۔۔۔
وہ شیر جری ہاے پھر آ نہ سکا گوہر
جب تک بھی رہی زندہ دل تھامے ہوے رو کر
ماں کرتی رہی نوحہ آجاؤ علی اکبر
بانو کا یہ نوحہ تھا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.