Bain karte thay
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Hasan Abbas Ahsan
بین کرتے تھے سرور ہاے نوجواں اکبر
نوجوان بیٹے کی رن سے جب صدا آی
لے چلے سوے مقتل شاہ دیں کو تنہائی
کچھ نظر نہ آتا تھا جا چکی تھی بینای
کہتے تھے تمہیں ڈھونڈوں میں کہاں کہاں اکبر
بین کرتے تھے سرور۔۔۔
جس گھڑی شہ والا پہنچے لاش اکبر پر
پھٹ گیا جگر غم سے دیکھتے ہی یہ منظر
مضطرب تھا ریتی پر ہم شبیہ پیغمبر
لے رہے تھے رک رک کر رن میں ہچکیاں اکبر
بین کرتے تھے سرور۔۔۔
شاہ دیں یہ کہتے تھے چپ ہو کس لیےء بیٹا
باپ کو ضعیفی میں داغ دے گےء کیسا
کیا بتاؤں میں تم کو حال جو ہے لیلیٰ کا
کس طرح رہے زندہ اب تمہاری ماں اکبر
بین کرتے تھے سرور۔۔۔
کچھ تو بولو کیوں آخر کروٹیں بدلتے ہو
دونوں ہاتھ سینے پر بار بار رکھتے ہو
کیا گزر گیء بیٹا کس لیےء تڑپتے ہو
کیوں رگڑتے ہو آخر رن میں ایڑیاں اکبر
بین کرتے تھے سرور۔۔۔
ہاے تیری شادی کا دل میں ماں کے ارماں تھا
کیسے اب وہ دیکھے گی تیرا خوں بھرا لاشہ
جا کے ام لیلیٰ سے اب میں کیا کہوں بیٹا
ہاے یہ جوانی اور دل میں یہ سناں اکبر
بین کرتے تھے سرور۔۔۔
کربلا کے جنگل میں کیسا وقت غربت ہے
ایک غمزدہ ماں پر کیسی یہ قیامت ہے
سامنے نگاہوں کے نوجواں کی میت ہے
بیکسی میں لیلیٰ کا ہے یہ امتحاں اکبر
بین کرتے تھے سرور۔۔۔
تھا سہیل خیموں میں ایک حشر سا برپا
لا کے رکھ دیا شہ نے نوجوان کا لاشہ
تھا لبوں پہ زینب کے ہر گھڑی یہی نوحہ
میری گود کے پالے میرے نوجواں اکبر
بین کرتے تھے سرور۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.