Bazaar aa raha hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Rizwan Zaidi
بازار آ رہا ہے بازار آ رہا ہے
شرم و حیا کی ملکہ بے مقنہ و ردا ہے
سب قتل ہو چکے ہیں شبیر کے فدائی
انصار و اقربا بھی
کس کو بلاے ہاے سنتا نہیں ہے کوئی
فریاد بیکسوں کی
بے حال غم کے مارے بیمار کربلا ہے
بازار آ رہا ہے۔۔۔
کیسی ہے یہ قیامت ہے کیسی یہ گھڑی ہے
ہے کیسی بیکسی ہے
سر بے ردا ہے سب کے ہاتھوں میں بی بیوں کے
رسی بندھی ہوئی ہے
بیمار کے گلے میں طوق گراں پڑا ہے
بازار آ رہا ہے۔۔۔
کیا ظلم کیا ستم ہے آی ہے قید ہو کر
اولاد مصطفیٰ کی
بیمار سارباں کے پیروں پہ سر کو رکھ کے
روتی ہے بیڑیاں بھی
سن سن کے یہ صداییں ہر زخم رو رہا ہے
بازار آ رہا ہے۔۔۔
بالوں سے منہ چھپا کر سیدانیاں پکاری
آ کر ہمیں بچاؤ
عباس جلد آؤ عباس جلد آؤ عباس جلد آؤ
ایک غل ہے چار جانب ایک شور اٹھ رہا ہے
بازار آ رہا ہے۔۔۔
مظلوم بی بیوں کو ہوتے ہیں خوش رلا کر
أہل ستم جفا گر
فریاد کر رہی ہے سیدانیاں تڑپ کر
کوی دلا دے چادر
عباس کو بلاؤ زینب کی یہ صدا ہے
بازار آ رہا ہے۔۔۔
چاروں طرف سکینہ قیدی یتیم بچی
حسرت سے دیکھتی ہے
کیا وقت آ گیا ہے عباس کی بھتیجی
چھپ چھپ کے رو رہی ہے
سہمی ہوئی ہے بچی یہ خوف کھا رہا ہے
بازار آ رہا ہے۔۔۔
غیض و غضب کے مارے لرزا ہے ایک سناں پر
کڑیل جوان کا سر
رکتا نہیں ہے ہاے غازی کا سر سناں پر
گر جاتا ہے زمیں پر
آنکھوں سے شہ کی خوں کا بہنا بتا رہا ہے
بازار آ رہا ہے۔۔۔
زینب نے رو کے جس دم پوچھا یہ شاہ دیں سے
حکم امام کیا ہے
آی صدا یہ گوہر شاہ امم کے سر سے
بھای بھی چل رہا ہے
چل میری دکھیا بہنا حافظ تیرا خدا ہے
بازار آ رہا ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.