Ay maut teher ja
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Irfan Haider
ہچکیاں لیتے تھے علی اکبر
اُمِّ لیلیٰ یہ بین کرتی تھی
پوشاک اُڑھالوں کے میں ارمان نکالوں
اے موت ٹھہر جا اے موت ٹھہر جا
میں اپنے جوان لال کو دولہا تو بنا لوں
اے موت ٹھہر جا۔۔۔
اس لال کو میں کیسے کروں تیرے حوالے
یہ چاند تو دیتا ہے زمانے کو اُجالے
اس چاند کی پوشاک ستاروں سے سجا لوں
اے موت ٹھہر جا۔۔۔
اٹھارہ برس پھولوں کی طرح جسے پالا
جاتا ہے مجھے چھوڑ کے وہ گیسوؤں والا
اب تُو ہی بتا کیسے میں اس دل کو سنبھالوں
اے موت ٹھہر جا۔۔۔
دیکھے تھے بہت خواب مگر خاک ہوئے سب
اس بیٹے کے سہرے کی دُعا کرتی تھی زینب
دولہا نہ سہی میں اسے دولہا سا بنا لوں
اے موت ٹھہر جا۔۔۔
ہر شام جسے لگتی ہے اب شام ِ غریباں
جو کہتی تھی اکبر کی دولہن لاؤں گی اماں
اُس فاطمہ صغریٰ کو مدینے سے بُلا لوں
اے موت ٹھہر جا۔۔۔
خیمے سے ذرا دُور کھڑے روتے ہیں سرور
اک ہاتھ کلیجے پہ ہے اک ہاتھ کمر پر
میں خود کو سنبھالوں کے شاہِ دیں کو سنبھالوں
اے موت ٹھہر جا۔۔۔
یہ کس کی نظر کھا گئی اس نورِ نظر کو
ویران کیئے جاتے ہیں اکبر میرے گھر کو
جی کرتا ہے اس چاند کو دُنیا سے چھُپا لوں
اے موت ٹھہر جا۔۔۔
زینب کے لبوں پر ہے بُکا ہائے مقدر
کیا سہرا چڑھاوں میں تیری لاش پہ اکبر
اور خود کو تیری لاش پہ صدقے ہی اُتاروں
اے موت ٹھہر جا۔۔۔
مہندی نہ لگی ہاتھوں میں ہے خون بدن کا
پوشاک ِ شاہانی کو ملا داغ کفن کا
اس لاش پہ اٹھارویں منت کو بڑھا لوں
اے موت ٹھہر جا۔۔۔
تقدیر کسی ماں کو یہ منظر نہ دیکھائے
میت پہ جواں لال کے وہ اشک بہائے
جی بھر کے اسے دیکھ لوں اور اشک بہا لوں
اے موت ٹھہر جا۔۔۔
فریاد ذرا سُن لے سکینہ کی زبانی
مرجاوں گی بچھڑا جو میرا یوسف ِ ثانی
بھّیا میرے ناراض ہیں میں اُن کو منا لوں
اے موت ٹھہر جا۔۔۔
ماں روتی رہی مظہر و عرفان تڑپ کر
اور آ خری ہچکی میں سفر کر گئے اکبر
ماں کہتی رہی میں اسے دولہا تو بنا لوں
اے موت ٹھہر جا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.