Aulaad agar teri
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
جوان بیٹے کو آغوش میں اٹھاے ہوے
حسین خاک پہ بیٹھے ہیں سر جھکائے ہوے
اولاد اگر ہوتی تیری
میرا درد سمجھتا تو اکبر
اک لاش جواں پہ اک بابا
دیتا تھا صدا یہ رو رو کر
اولاد اگر ہوتی تیری
میرا درد سمجھتا تو اکبر
نہ خود کو سنبھالا جاتا ہے
نہ تجھکو سنبھالا جاتا ہے
تجھے کیا معلوم جواں بیٹا
کس طرح سے پالا جاتا ہے
گرتا ہوں کبھی میں اٹھتا ہوں
جاؤں گا تجھے کیسے لے کر
اولاد اگر ہوتی تیری۔۔۔
لیلیٰ سے یہ کہہ کر آیا ہوں
اکبر نے بلایا ہے مجھکو
تم ماں ہو دعا مانگو اس نے
سینے پہ نہ برچھی کھای ہو
جینے کی دعائیں کرتی ہے
خیمے میں تیری ماں رو رو کر
اولاد اگر ہوتی تیری۔۔۔
اٹھارہ برس تجھکو اپنے
سینے سے لگایا ہے میں نے
تیرے ساتھ اپنے ارمانوں کو
پروان چڑھایا ہے میں نے
ارمان تھا میری میت کو
کاندھے پہ اٹھاے تو اکبر
اولاد اگر ہوتی تیری۔۔۔
اکبر میری زینب کے دل میں
ارمان تھا تیری شادی کا
اے کاش وہ تیرے ماتھے پہ
اک بار سجا لیتی سہرا
بندھنا تھا جہاں پر ہاے سہرا
ہے خون لگا اس ماتھے پر
اولاد اگر ہوتی تیری۔۔۔
اس بات پہ رونا آتا ہے
میرے ساتھ اگر آتی صغرا
آواز تیری سن کر رن میں
تجھے ڈھونڈنے آ جاتی صغریٰ
تیری لاش پہ آ کر مر جاتی
صغرا بھیا بھیا کہہ کر
اولاد اگر ہوتی تیری۔۔۔
جتنا میں غریب ہوں اے اکبر
کوئی باپ غریب نہ ہو اتنا
پانی خود مانگا تھا تو نے
پیاسا تھا نہ جانے کتنا
تیرے کہنے پر بھی میں تجھکو
پانی نہ پلا پایا دلبر
اولاد اگر ہوتی تیری۔۔۔
یہ آخری خواہش ہے میری
سجاد سے کہہ دوں گا جا کر
جب بارہ محرم وہ سب کے
لاشوں کو دفناے آ کر
میرے پہلو میں تم کو دفنا دے
کبھی دور نہ ہو میرا اکبر
اولاد اگر ہوتی تیری۔۔۔
آسان نہیں ہے یہ لمحہ
اس وقت بتایا تھا میں نے
تیرے سامنے حر کے بیٹے کا
جب لاشہ اٹھایا تھا میں نے
اولاد کا غم کیا ہوتا ہے
پوچھے یہ کوئی مجھ سے آ کر
اولاد اگر ہوتی تیری۔۔۔
کاندھے پہ جواں لاشہ لیکر
جب خیموں تک پہنچے مولا
زیشان و رضا یہ کہتے ہوے
چوما علی اکبر کا چہرہ
تیری لاش اٹھا کر کس طرح
جاؤں میں خیموں کے اندر
اولاد اگر ہوتی تیری۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.