Athara baras ke
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Afzal Mirza
اٹھارہ برس کے علی اکبر کا جنازہ
اکبر کا جنازہ
شہ لاتے ہیں ہمشکل پیمبر کا جنازہ
اٹھارہ برس کے۔۔۔
خیمے میں الم آیا ہے کہرام ہے برپا
دریا پر ہے عباس دلاور کا جنازہ
اٹھارہ برس کے۔۔۔
اس درجہ سکینہ سے تھا شرمندہ علمدار
شہ لا نہ سکے اپنے برادر کا جنازہ
اٹھارہ برس کے۔۔۔
اے کل کے مددگار مدد کرنے کو آؤ
شبیر سے اٹھتا نہیں اکبر کا جنازہ
اٹھارہ برس کے۔۔۔
اصغر کی طرف دیکھ کے یہ کہتی تھی بانو
کن آنکھوں سے دیکھوں میں گل تر کا جنازہ
اٹھارہ برس کے۔۔۔
پامال ہوا دشت میں گھوڑوں کے سموں سے
کس طرح اٹھے قاسم مضطر کا جنازہ
اٹھارہ برس کے۔۔۔
پڑ جائے نہ یا رب کہیں زینب کے نگاہیں
تیروں پہ ہے رکھا ہوا سرور کا جنازہ
اٹھارہ برس کے۔۔۔
کیا ظلم ہے تپتی ہوی ریتی پہ پڑا ہے
بے گور و کفن سبط پیمبر کا جنازہ
اٹھارہ برس کے۔۔۔
جب دفن ہوا فاطمہ سر پیٹ رہی تھی
شبیر بن ثاقیء کوثر کا جنازہ
اٹھارہ برس کے۔۔۔
بانو نے کہا تیر ہے پیوست بدن میں
دھیرے سا اٹھانا میرے شوہر کا جنازہ
اٹھارہ برس کے۔۔۔
زینب نے کہا سر سے میرے چھن گےء چادر
تاریخ شب میں اٹھا مادر کا جنازہ
اٹھارہ برس کے۔۔۔
زینب زرا بانو کے کلیجے کو سنبھالو
شبیر کے ہاتھوں پہ ہے اصغر کا جنازہ
اٹھارہ برس کے۔۔۔
اس بھای سے زنداں کی مصیبت کوی پوچھے
جس بھای کے ہاتھوں پہ ہو خواہر کا جنازہ
اٹھارہ برس کے۔۔۔
سرور کی صدا آتی ہے چھوٹی سی لحد سے
لاؤ مجھے دے دو میری دختر کا جنازہ
اٹھارہ برس کے۔۔۔
عشرت میں بیاں کیسے کروں کیسے اٹھا تھا
مقتل کی زمیں سے شہ بے سر کا جنازہ
اٹھارہ برس کے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.