Athara baras in
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
مرنے کی اجازت جب مانگی
اکبر نے تو یہ سرور نے کہا
زینب سے اجازت لو بیٹا
تُم پر ھے زیادہ حق اسکا
خیمے میں پھوپی اماں کے جب
اٹھارا برس والا پہنچا
مانگی جو اجازت اکبر نے
زینب نے پکارا اے بیٹا
اٹھارا برس تُم کو اِن ھاتھوں سے پالا ہے
میں کیسے کہوں اکبر مرنے کے لئے جاؤ
اکبر تجھے دیکھوں تو چلتی ہیں میری سانسیں
کس طرح تجھے زخمی دیکھینگی میری آنکھیں
میرے گل بدن میرے نوجواں
کلیجے میں جب لگیگی سناں
میری جان تُم نا سہ پاؤگے
تمہیں کس طرح سمبھالیگی ماں
معلوم ھے زینب کو نازک تیرا سینہ ہے
میں کیسے کہوں اکبر۔۔۔
اٹھارا برس تُم کو۔۔۔
اک بار زرا اپنے بابا کی طرف دیکھو
کس طرح اُٹھائینگے وہ تیرے جنازے کو
عجب حال ہے کمر میں ہے خم
ہے عباس کی جدائی کا غم
غریب الوطن بہت تھک چکا
ضعیفی بھی ہے نظر بھی ہے کم
اے لال میرا بھائی سہ روز کا پیاسہ ہے
میں کیسے کہوں اکبر۔۔۔
اٹھارا برس تُم کو۔۔۔
میں پالنے والی ہوں اتنا تو میرا حق ہے
سوچا تھا کے اک دن میں جب جاؤنگی دنیا سے
لحد میں مجھے اُتارےگا تو
یہ ارمان ہے یہی آرزو
رہے تو سدا میرے سامنے
رُکے سانس بھی تیرے رو برو
اے لال ابھی میرا ارمان ادھورا ہے
میں کیسے کہوں اکبر۔۔۔
اٹھارا برس تُم کو۔۔۔
جب پہلے پہل تجھکو ہاتھوں پہ اُٹھایا تھا
یہ کہتے ہوئے میں نے سینے سے لگایا تھا
میری زندگی میرے لاڈلے
کسی کی تجھے نظر نہ لگے
تجھے دیکھنے کو بےچین تھی
سکوں مل گیا تجھے دیکھ کے
تو آنکھوں کا تارا ہے تو راج دلارا ہے
میں کیسے کہوں اکبر۔۔۔
اٹھارا برس تُم کو۔۔۔
صغرا سے کیا وعدہ کیا یاد نہیں اکبر
بیمار مدینے میں مرجائے نہ رو رو کر
اُسے آس ہے کے آؤگے تُم
جو وعدہ کیا نبھاؤگے تُم
سکینہ سے وہ بہت دور ہے
بہن سے اُسے ملاؤگے تُم
اے لال ابھی تُم کو وہ وعدہ نبھانا ہے
میں کیسے کہوں اکبر۔۔۔
اٹھارا برس تُم کو۔۔۔
اکبر تیری شادی کا ارماں ہے بہت ہم کو
ہم سہ نہیں پائینگے اے لال تیرے غم کو
جبیں پر تیری جو سہرا بندھے
تمنا ہے وہ پھوپی دیکھلے
دلہن کو تیری سجاؤنگی میں
اے میرے حسیں جواں لاڈلے
زینب نے ابھی تجھکو دولہا بھی بنانا ہے
میں کیسے کہوں اکبر۔۔۔
اٹھارا برس تُم کو۔۔۔
یہ کہنے لگے اکبر زینب کی صدا سن کے
افضل تو نہیں اماں میں دلبرِ زہرا سے
اکیلے ہیں وہ نہیں ہے کوئی
مصیبت میں ہےضرورت میری
نظر کس طرح ملاؤنگا میں
اگر آپ نے اجازت نہ دی
کیوں آپ کے ہونٹوں پہ اِس وقت یہ نوحہ ہے
میں کیسے کہوں اکبر۔۔۔
اٹھارا برس تُم کو۔۔۔
اکبر کی صدا سن کر زینب نے اجازت دی
رُخصت جو ہوئے اکبر کیسی وہ قیامت تھی
دعائیں خدا سے کرتی تھی وہ
میرے لال کی خدا خیر ھو
کہا یاعلی مدد کیجئے
میں رخصت کروں جواں لال کو
زیشان و رضا پھر نہ زینب نے پکارا ہے
میں کیسے کہوں اکبر۔۔۔
اٹھارا برس تُم کو۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.