Ashoor ki sehar hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Hasan Sadiq
عاشور کی سحر ہے اکبر کی اذاں ہے
شبیر کے لشکر میں اک شورِ فغاں ہے
عاشور کی سحر ہے اکبر کی اذاں ہے
صف بستہ غازی ہیں مولا کی امانت میں
انصارِ شاہِ دیں ہیں مصروف عبادت میں
سجدے میں دعا کرتی اکبر تیری ماں ہے
عاشور کی سحر ہے ۔۔۔
کیا سوگ کا عالم تھا شبیر کے لشکر میں
ماں کہتی تھی لائوں گی اکبر کی دُلہن گھر میں
معلو م نہ تھا ان کی قسمت میں سِناں ہے
عاشور کی سحر ہے ۔۔۔
عاشور سے ہر صبح کی آ غوش میں اب تک
معصوم کی تاسیرِ بیاں گونج رہی ہے
اسلام کی وادی میں آواز ہی اے لوگ
شبیر کے اکبر کی اذاں گونج رہی ہے
آوازِ اذاں پہنچی جس وقت مدینے میں
صغریٰ نے کہا کوئی حسرت نہیں سینے میں
مجھے اتنا یہ بتا دے بھائی توں کہاں ہے
عاشور کی سحر ہے ۔۔۔
دم توڑتے اکبر نے بابا سے کہا رو کر
صغریٰ کو بتا دینا سہرا نہ بندھا سر پر
برچھی ہے کلیجے میں اور خشک زباں ہے
عاشور کی سحر ہے ۔۔۔
اٹھارہ برس پال کے جس کو جواں کیا
زینب کے سامنے وہ ہی دم توڑنے لگا
زینب نے سر کو پیٹ کے لاشے سے یہ کہا
اکبر نہیں گیا میرے سینے سے دل گیا
زینب کے یہ نالے تھے لاشِ علی اکبر پر
اٹھارہ برس میں نے پالا تھاتجھے اکبر
میں دھوپ میں بیٹھی ہوں اور اشک رواں ہے
عاشور کی سحر ہے ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.