Ali akbar ali akbar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Mir Sajjad Mir
اے میرے نورِ نظر اے میرے لختِ جگر
باپ آیا ہے اٹھو دیکھو تو حال پدر
مولا نے کہا بیٹے کے شانے کو ہلا کر
علی اکبر علی اکبر
کیوں اٹھتے نہیں ہو میری آواز پہ اکبر
علی اکبر علی اکبر
بابا ہے پریشان زرا آنکھیں تو کھولو
برچھی کہاں کھای ہے کہاں درد ہے بولو
یوں ایڑیاں رگڑو نہ میرے لال زمیں پر
علی اکبر علی اکبر
مولا نے کہا بیٹے کے۔۔۔
طاری ہے غشی تم پہ لہو بہہ گیا کتنا
ہمت نہیں اٹھنے کی تو لیٹے رہو بیٹا
میں ٹھیک ہوں آہستہ سے کہدو میرے دلبر
علی اکبر علی اکبر
مولا نے کہا بیٹے کے۔۔۔
گر گر کے ہر ایک لاش سے میں پوچھ رہا تھا
کیا تم میرے اکبر ہو بتا دو مجھے اتنا
میں لاش پہ پہنچا ہوں تیری گھٹنیوں چل کر
علی اکبر علی اکبر
مولا نے کہا بیٹے کے۔۔۔
گردن میں میری ہاتھ زرا ڈال دو بیٹا
بابا کے سہارے سے اٹھو گھر چلو بیٹا
گودی میں اٹھا سکتا نہیں میں تمہیں اکبر
علی اکبر علی اکبر
مولا نے کہا بیٹے کے۔۔۔
ہم سارا نہیں پڑھ سکے اکبر خط صغرا
اس بات کا میں کیا دوں جواب اس کو اے بیٹا
شادی کا تیری پوچھ رہی ہے تیری خواہر
علی اکبر علی اکبر
مولا نے کہا بیٹے کے۔۔۔
بچے کو میرے مار کے ہنستے ہیں جو اعدا
میں بد دعا دے دوں تو کبھی بھی نہ بچے گا
اے لال ہے ہم ناقہء صالح سے تو بڑھ کر
علی اکبر علی اکبر
مولا نے کہا بیٹے کے۔۔۔
سونا تو ہے تو آجاؤ میری جان سلاییں
آؤ پھپھی اماں کی تمہیں لوری سناییں
ہم بیٹھ گئے بابا کی زانو پہ رکھو سر
علی اکبر علی اکبر
مولا نے کہا بیٹے کے۔۔۔
آہستہ سے سجاد پکارے شہ والا
شبیر کی غیرت کو گنوارا نہیں بیٹا
اٹھ جاؤ نکل آے نہ زینب میری باہر
علی اکبر علی اکبر
مولا نے کہا بیٹے کے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.