Akbare kadiyal jawan
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Ali Zia Rizvi
اکبر کڑیل جواں اکبر کڑیل جواں
سینے پہ اکبر نے جب ظلم کی کھائی سناں
ہر طرف چھائی ہوئی غم کی تھی تاریکیاں
کہتی تھی سر پیٹ کر اس طرح مقتل میں ماں
اکبر کڑیل جواں
کیسے ہوئے بیٹا تم آنکھوں سے میری نہاں
کیسے پر آشوب میں ماں تمہیں ڈھونڈے کہاں
تم ہی دو آواز ہو علی اکبر جہاں
اکبر کڑیل جواں
الغرض پہنچے وہاں ٹھوکریں کھاتے حسین
خون میں ڈوبا ہوا آیا نظر نور عین
کہہ کے زمین پر گرے ہاے میرے دل کے چین
اکبر کڑیل جوان
دیکھا کے سینے سے ہے خون کا دریا رواں
درد سے نور نظر خاک پہ ہے نیم جاں
کھینچ لی دل تھام کے سینے سے شہ نے سناں
اکبر کڑیل جوان
لاشہ اکبر نہ جب شاہ ہدا سے اٹھا
رخ کیا سوے نجف آیے مشکل کشا
کیسے پر آشوب مئی دیکھئے میں لٹ گیا
اکبر کڑیل جوان
صدقے ہو تم پر یہ ماں آنکھیں تو کھولو ذرا
صدقے ہو تم پر یہ ماں منہ سے تو بولو ذرا
صدقے ہو تم پر یہ ماں زخم تو دھولو ذرا
اکبر کڑیل جوان
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.