Akbar tumhe maloom
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Sahib e aalam
اکبر تمہیں معلوم ہے کیا مانگ رہے ہو
تم باپ سے مرنے کی رضا مانگ رہے ہو
اس عالم غربت میں تمہیں جانے دوں کیسے
اس دشت مصیبت میں تمہیں جانے دوں کیسے
اس وقتِ قیامت میں تمہیں جانے دوں کیسے
اے لال جو تم اذن وغا مانگ رہے ہو
تم باپ سے مرنے کی رضا مانگ رہے ہو
اکبر تمہیں معلوم۔۔۔
کیا گزرے گی اس باپ کے دل نہیں سونچا
تو نے یہ میری جاں علی اکبر نہیں سونچا
مر جاؤں گا میں تجھ سے بچھڑ کر نہیں سونچا
تم مجھ سے ضعیفی کا عصا مانگ رہے ہو
تم باپ سے مرنے کی رضا مانگ رہے ہو
اکبر تمہیں معلوم۔۔۔
دل روتا ہے نظروں سے اگر دور ہو بیٹا
کس طرح جدائی تیری منظور ہو بیٹا
تم ہی میری آنکھیں ہو میرا نور ہو بیٹا
مجھ سے میری آنکھوں کی ضیا مانگ رہے ہو
تم باپ سے مرنے کی رضا مانگ رہے ہو
اکبر تمہیں معلوم۔۔۔
دنیا سے گیا جس گھڑی محبوب خدا کا
نانا کی زیارت کو تڑپتا تھا نواسہ
اے لال تجھے اس لئے خالق سے تھا مانگا
مقبول ہوی میری دعا مانگ رہے ہو
تم باپ سے مرنے کی رضا مانگ رہے ہو
اکبر تمہیں معلوم۔۔۔
اسلام پہ قد اپنا لہو رن میں بہاؤ
سینے پہ سناں شان سے میدان میں کھاؤ
تصویر پیمبر کی تہہ خاک ملاؤ
کیا اس لئے مرنے کی رضا مانگ رہے ہو
تم باپ سے مرنے کی رضا مانگ رہے ہو
اکبر تمہیں معلوم۔۔۔
اک روز تجھے آن کے مانگا تھا پھپھی نے
اٹھارہ برس نازوں سے پالا تھا پھپھی نے
بیٹوں سے بھی زیادہ تمہیں چاہا تھا پھپھی نے
احسان جو زینب نے کیا مانگ رہے ہو
تم باپ سے مرنے کی رضا مانگ رہے ہو
اکبر تمہیں معلوم۔۔۔
رکھتے نہیں تم اسکی خبر اے میرے پیارے
کس درجہ محبت ہے تیری دل میں ہمارے
نانا کی میرے شکل ہے پیکر میں تمہارے
تم صورت محبوب خدا مانگ رہے ہو
تم باپ سے مرنے کی رضا مانگ رہے ہو
اکبر تمہیں معلوم۔۔۔
سر تیرا بھی جس وقت چڑھے گا سر نیزہ
ہوگا سر میدان جدا سر بھی تمہارا
ہمشکل پیمبر کا گلا کاٹیں گے تو اعدا
گویا میرے نانا کا گلا مانگ رہے ہو
تم باپ سے مرنے کی رضا مانگ رہے ہو
اکبر تمہیں معلوم۔۔۔
بابا مجھے معلوم ہے کیا مانگ رہا ہوں
اک باپ سے مرنے کی رضا مانگ رہا ہوں
بابا مجھے اماں نے بھی کچھ درس دیا ہے
آدابِ وفا سے مجھے آگاہ کیا ہے
پہلے میں مروں آپ سے وعدہ یہ لیا ہے
بس اس لئے مرنے کی رضا مانگ رہا ہوں
اک باپ سے مرنے کی رضا مانگ رہا ہوں
بابا مجھے معلوم۔۔۔
ہیں آپ تو بابا بن خاتون قیامت
اور ماں ہے میری ادنیٰ سی اک پیکر عصمت
کیا سینے میں اس کے نہیں کچھ جزبہء عصمت
میں مادر مضطر کا کہا مان رہا ہوں
اک باپ سے مرنے کی رضا مانگ رہا ہوں
بابا مجھے معلوم۔۔۔
بابا مجھے احوالِ دلِ زار پتہ ہے
ہے سخت بہت منزل دشوار پتہ ہے
اور دین کا مشکل میں ہے سردار پتہ ہے
یوں آپ سے مرنے کی رضا مانگ رہا ہوں
اک باپ سے مرنے کی رضا مانگ رہا ہوں
بابا مجھے معلوم۔۔۔
میں شاعر حساس جگر سوز ہوں خرشید
محو غم شبیر شب و روز ہوں خرشید
آلام و مصایب سے زمیں دوز ہوں خرشید
کشکول میں کچھ آشک عزا مانگ رہا ہوں
اک باپ سے مرنے کی رضا مانگ رہا ہوں
بابا مجھے معلوم۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.