Akbar tadap uthe
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Shadman Raza
کھینچی پسر کے سینے سے برچھی جو شاہ نے
اکبر تڑپ اٹھے ہاے اکبر تڑپ ہاے
بیٹے کا حال دیکھ کے شبیر رو دیےء
اکبر تڑپ اٹھے ہاے اکبر تڑپ ہاے
میت کو اس ضعیف میں کیسے اٹھاییں گے
لاشے کو میرے کیسے یہ گھر لے کے جائںں گے
درد جگر کو بھول کے بس یہی سوچ کے
اکبر تڑپ اٹھے۔۔۔
دیکھا جواں لال کو جس وقت خوں میں تر
آیا نظر جو شاہ کو دم توڑتا پسر
اپنے جگر کو تھام کے شبیر رہ گےء
اکبر تڑپ اٹھے۔۔۔
پسر پر پسر کی جو آے شہ زمان
کچھ بھی نظر نہ آتا تھا تاریخ تھا جہاں
شبیر کھا کے ٹھوکریں مقتل میں جب گرے
اکبر تڑپ اٹھے۔۔۔
برچھی جو کھینچ شاہ نے لے کر علی کا نام
حالت پسر کی دیکھ کے رونے لگے امام
برچھی کا پھل جو رہ گیا سینے میں ٹوٹ کے
اکبر تڑپ اٹھے۔۔۔
ایک غمزدہ کا آ گیامقتل میں جب خیال
صغرا کا حال سوچ کے بڑھنے لگا ملال
اور پھر اکھڑتی سانس میں ہمشیر کے لئے
اکبر تڑپ اٹھے۔۔۔
یہی تھا غم کے چادریں چھینیں گے اشقیاء
ہر بی بی یہ پکارے گی ہاے میری ردا
جب یہ خیال آ گیا ماں ہو گی سر کھلے
اکبر تڑپ اٹھے۔۔۔
جب وقت نزع رن میں تھی اکبر کی ہچکیاں
جب نوجواں تھا آخری سانسوں کے درمیاں
حسرت سے اپنے لال کو جب دیکھا باپ نے
اکبر تڑپ اٹھے۔۔۔
اظہار بن میں جس گھڑی زینب کو دی صدا
اکبر کا دم نکلتا ہے جب رو کے یہ کہا
جب یہ کہا کے آ کے دلاسہ تو دیجیےء
اکبر تڑپ اٹھے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.