Akbar mera sehriyan
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Shadman Raza
میرا سہریاں والا اکبر
زخم دل کے دکھاؤں میں کیسے
تیرا لاشہ اٹھاؤں میں کیسے
اکبر میرا سہریاں والا اکبر
لاشِ اکبر پہ شاہ جب پہنچے
دل کو ہاتھوں سے تھام کر بولے
تیری فرقت نے اے علی اکبر
آگ دل میں میرے لگادی ہے
آگ دل کی بجھاؤں میں کیسے
تیرا لاشا اُٹھاؤں میں کیسے
اکبر میرا سہریاں۔۔۔
تو ہے کڑیل جوان اے بیٹا
باپ تیرا ضعیف ہے کتنا
نور آنکھوں کا ہوگیا رخصت
مجھکو آتا نہیں نظر خیمہ
لیکے خیموں میں جاؤں میں کیسے
تیرا لاشہ اُٹھاؤں میں کیسے
اکبر میرا سہریاں۔۔۔
جس نے اٹھارہ سال پالا تھا
کیسے دیکھے گی وہ تیرا لاشہ
تیری شادی کا تھا جسے ارماں
کیسے جھیلے گی وہ تیرا صدمہ
تیری ماں کو بتاؤں میں کیسے
تیرا لاشہ اُٹھاؤں میں کیسے
اکبر میرا سہریاں۔۔۔
دیکھ آیا ہے قاصدِ صغرا
راہ تکتی ہے وہ دکھی بہنا
تجھ کو بیمار نے بلایا ہے
وعدہ صغرا کا کیوں بھلا ڈالا
غم یہ دل سے لگاؤں میں کیسے
تیرا لاشہ اُٹھاؤں میں کیسے
اکبر میرا سہریاں۔۔۔
بھائی بہنوں کا ہے عجب رشتہ
جس کا ثانی کہیں نہیں ملتا
رو کے صغرا نے یہ لکھا اکبر
ایک دکھیا کی لاج رکھ لینا
مر گیا تو بتاؤں میں کیسے
تیرا لاشہ اُٹھاؤں میں کیسے
اکبر میرا سہریاں۔۔۔
لطف جینے میں اب کہاں اکبر
دل سے اُٹھتی ہے یہ فُغاں اکبر صبحِ عاشور دی تھی جو تو نے
خوں رلائے گی وہ آذاں اکبر
تیری صورت بھلاؤں میں کیسے
تیرا لاشہ اُٹھاؤں میں کیسے
اکبر میرا سہریاں۔۔۔
ضبط غم کا محال ہے بیٹا
دیکھوں کیسے یہ زخم سینے کا
میں تو پردیس میں اکیلا ہوں
دیکھ کر زخم کیا کروں بتلا
اس پہ مرہم لگاؤں میں کیسے
اکبر میرا سہریاں۔۔۔
ایسی غربت میں مُنہ نہیں موڑو
میں ہوں تنہا مجھے نہ یوں چھوڑو
کیا گزرتی ہے باپ کے دل پر
غمزدہ دل کو یوں نہیں توڑو
اپنی غربت بتاؤں میں کیسے
تیرا لاشہ اُٹھاؤں میں کیسے
اکبر میرا سہریاں۔۔۔
شادماں یہ دعا ہے خالق سے
وقت ایسا کسی پہ نہ آئے
جیسا مظہر نے لکھ دیا منظر
شاہ کہتے تھے بس یہی روکے
زخم دل کے دکھاؤں میں کیسے
اجڑا ہوا حسین کا کنبہ لئے ہوئے
اکبر میرا سہریاں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.