Bada royi sakina
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Nadeem Sarwar
ہاں یہ ہے شہر شام
چھوٹی شہزادی کا ہے یہی ہے قیام
آج روضے پہ ہے روشنی صبح و شام
پرسہ داروں کا ہے ماتمی اژدہام
پھٹ رہا ہے جگر سونچتا ہوں اگر
کیسا تاریک تھا کیسا ویران تھا
کیسا ویران تھا کل یہ زندان تھا
بڑا روی سکینہ یہاں
ہاں یہ ہے شہر شام۔۔۔
اتنی وحشت کے اک پل نہ گزرے جہاں
چیختی ہو جہاں صرف تنہائیاں
رونا کیا سسکیوں پر بھی پابندیاں
رسیوں بیڑیوں طوق کے درمیاں
بڑا روی سکینہ یہاں
ہاں یہ ہے شہر شام۔۔۔
سر کھلے خاک پرغمزدہ بی بیاں
اس میں قاسم کی اکبر کی اصغر کی ماں
مانگ اجڑی ہوی خالی تھی گودیاں
سب کی ہمت بندھاتی تھی زینب جہاں
بڑا روی سکینہ یہاں
ہاں یہ ہے شہر شام۔۔۔
ہاں اسی شام کے بیچ بازار میں
بی بیاں پتھروں کی تھی بوچھار میں
خوں میں ڈوبی محمد کی تھی بیٹیاں
ہر طرف شام میں جشن کا تھا سماں
بڑا روی سکینہ یہاں
ہاں یہ ہے شہر شام۔۔۔
دیکھ کر بنت زہرا کا یوں سر کھلا
نوکِ نیزہ سے غازی کا سر گر گیا
ہاے غازی کی غیرت کا یہ امتحاں
سر پٹکنے لگی ساری شہزادیاں
بڑا روی سکینہ یہاں
ہاں یہ ہے شہر شام۔۔۔
اک قیامت سی دربار میں آ گیء
جب سکینہ کنیزی میں مانگی گیء
نہ پدر نہ چچا بھای بھی ناتواں
توڑی سجاد نے غیض میں بیڑیاں
بڑا روی سکینہ یہاں
ہاں یہ ہے شہر شام۔۔۔
دختر ہند بولی سکینہ بتا
کیسے دامن جلا کیوں ہے کرتہ پھٹا
اوڑھنی تیری سر کی گیء ہے کہاں
کھینچی ہے کس شقی نے تیری بالیاں
بڑا روی سکینہ یہاں
ہاں یہ ہے شہر شام۔۔۔
بولی کیا حال اپنا بتاؤں تجھے
چھوڑ کے جب سے بابا گےء ہیں مجھے
میں یتیم ہو گیء اور کیا ہو بیاں
میری گردن میں باندھی گیء رسیاں
بڑا روی سکینہ یہاں
ہاں یہ ہے شہر شام۔۔۔
اور اک روز زندان رونے لگا
جب سکینہ کو بابا کا سر مل گیا
بولی اب آے ہو تم میرے بابا جاں
اتنے دن دور مجھ سے رہے ہو کہاں
بڑا روی سکینہ یہاں
ہاں یہ ہے شہر شام۔۔۔
روی ریحان و سرور کی آنکھیں لہو
روضہء شاہزادی پہ کی گفتگو
ہاے اس وقت ہم تم کھڑے ہے جہاں
نور ہی نور ہے کل تھی تاریکیاں
بڑا روی سکینہ یہاں
ہاں یہ ہے شہر شام۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.