Akbar ko na maaro
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Irfan Haider
اے بابا علیک منی السلام
جب یہ آواز سنی جوان بیٹے کی
شاہ گر گر کے اٹھے سوے میدان چلے
ہاتھ اکبر کا کلیجے پہ جو دیکھا تو کہا
اے برچیوں والوں اکبر کو نہ مارو
میرے اکبر کو نہ مارو
اللّٰہ اللّٰہ کہیں تیر کہیں بھالا ہے
کیا اسے برچھیاں کھانے کے لئے پالا ہے
یہ میرے نورِ نظر شبیہ پیغمبر
یہ اگر مارا گیا میں بھی نہ جی پاؤں گا
اے برچیوں والوں۔۔۔
ہاے عباس کے مرنے سے کمر میں خم ہے
اور اکبر کی جدائی میں نظر بھی کم ہے
دیکھو میں تنہا ہوں غریب کتنا ہوں
میرا اب کوئی نہیں ہے علی اکبر کے سوا
اے برچیوں والوں۔۔۔
گھیر کر دشت میں تم مار رہے ہو جس کو
مل کے دو ماؤں نے پروان چڑھایا اس کو
نیزہ برداروں رکو کچھ تو احساس کرو
سہہ نہ پایینگی یہ غم زینب و ام لیلیٰ
اے برچیوں والوں۔۔۔
کبھی اکبر تو کبھی سوے مدینہ دیکھا
دشت میں جاتے ہوے یاد جب آی صغرا
بولے مولا رو کے وہ یہاں ہوتی اگر
دیکھتی کیسی جواں بھای کا زخمی سینہ
اے برچیوں والوں۔۔۔
کیا تمہاری کوئی اولاد نہیں ہے بولو
بیٹا کس طرح جواں ہوتا ہے مجھ سے پوچھو
گرز سے زخمی ہے سر ہے لہو چہرے پر
میرا ارمان تھا اکبر کہ ہو سر پر سہرا
اے برچیوں والوں۔۔۔
مولا جب بیٹے کے پاس آے سنو کیا دیکھا
ایڑیاں خاک اکبر کو رگڑتا دیکھا
صبر پھر ٹوٹ گیا شاہ نے رو کے کہا
شدت درد سے مر جاے نہ اکبر میرا
اے برچیوں والوں۔۔۔
کیا کبھی سونچا ہے زیشان اور عرفان عزا
کیسے اس باپ نے بیٹے کا اٹھایا لاشہ
ہاے جو خیموں سے گھٹنیوں چلتے ہوے
نوجواں لاش تک آیا یہ صدا دیتا ہوا
اے برچیوں والوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.