Akbar ke kaleje
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Sajid Jafri
کس طرح کہے مادر اکبر سے یہ سرور
اکبر کے کلیجے میں سناں ٹوٹ گیء ہے
لوٹے گا نہیں دشت سے ہمشکل پیمبر
اکبر کے کلیجے میں سناں ٹوٹ گیء ہے
مقتل کی طرف بڑھتے ہوئے جاتے ہیں ایسے
رستے ہی میں رک جائے مسافر کو جیسے
کہتے ہیں یہی اپنے کلیجے کو پکڑ کر
اکبر کے کلیجے میں سناں ٹوٹ گیء ہے
کس طرح کہے۔۔۔
کیا حال ہے اکبر کا بھلا کیسے بتاؤں
پیری میں جواں لاش بھلا کیسے اٹھاؤں
اب نہر سے آجاؤ میرے مونس و یاور
اکبر کے کلیجے میں سناں ٹوٹ گیء ہے
کس طرح کہے۔۔۔
پالا ہے تجھے گود میں زینب سی پھپھی نے
پروان چڑھایا ہے تجھے بنت علی نے
یہ دیکھ کے مر جاۓ نہ شبیر کی خواہر
اکبر کے کلیجے میں سناں ٹوٹ گیء ہے
کس طرح کہے۔۔۔
کس طرح بھلا دیکھے گی اس حال میں دکھیا
خیمے کے قریب جا کے یہ شبیر نے سوچا
کیا ہوگا ابھی دیکھے گی جو مادر اکبر
اکبر کے کلیجے میں سناں ٹوٹ گیء ہے
کس طرح کہے۔۔۔
دیکھو تو ہر ایک خیمے میں کہرام بپا ہے
نیزہ علی اکبر کے کلیجے میں لگا ہے
خوش ہو کے یہی کہتے ہیں آپس میں ستمگر
اکبر کے کلیجے میں سناں ٹوٹ گیء ہے
کس طرح کہے۔۔۔
چھلنی ہوا مقتل میں میرے لال کا سینہ
نیزے کے ہی ہمراہ نکل آیا کلیجے
ماں خیمے سے باہر نہ نکل آئے یہ سن کر
اکبر کے کلیجے میں سناں ٹوٹ گیء ہے
کس طرح کہے۔۔۔
ساجد نے پڑھا جیسے ہی اکبر کا یہ نوحہ
قرطاس و قلم رونے لگے سن کے یہ نوحہ
افہام کہا مجھ سے یہ لفظوں نے یہ تڑپ کر
اکبر کے کلیجے میں سناں ٹوٹ گیء ہے
کس طرح کہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.