Akbar jawan ki
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Mukhtar Hussain Fatehpuri
اکبر جواں کی لاش پہ مادر کے ہیں یہ بین
ڈوبا ہے خوں میں مارا گیا میرا نور عین
اٹھو اے بیٹا دیتی صدائیں ہیں تجھ کو ماں
شانہ ہلا کے بیٹے کا کہتی ہے رو رو ماں
اے لال کچھ تو بولو ملے دل کو میرے چین
اکبر جواں کی لاش پہ۔۔۔
اے لال تو ہے بابا کا اور میرا لاڈلہ
ناراض ہو تو ماں سے کہو کیا ہے ماجرا
سن کر یہ بین خیمے میں ہوتا ہے شور و شین
اکبر جواں کی لاش پہ۔۔۔
منھ چوم کے وہ بیٹے کا سینے پہ گر پڑی
سینے کا زخم دیکھا تو دل ڈھونڈنے لگی
بولی کلیجہ ہے کہاں اے شاہ مشرقین
اکبر جواں کی لاش پہ۔۔۔
لخت جگر کو میرے جوانی یہ کھا گئی
شادی کے دن تھے بیٹا تجھے موت آ گئی
صغریٰ کو کیا بتاؤں گی بولو نا نور عین
اکبر جواں کی لاش پہ۔۔۔
حرکت نہیں ہے جسم میں کرتا نہیں کلام
پانی پلاؤ آنکھوں کو کھولے گا تشنا کام
اکبر کو سوتا دیکھ کے روتے ہیں کیوں حسین
اکبر جواں کی لاش پہ۔۔۔
ٹکڑے جگر یہ ہوتا ہے اے میرے نو نہال
تنہا نہ چھوڑو کر لو ضعیفی کا کچھ خیال
حسرت سے چومے بیٹے کے مادر نے رو کے نین
اکبر جواں کی لاش پہ۔۔۔
خوں میں ہیں ڈوبے گیسو تو چہرہ ہے خوں بھرا
سہرا کہاں میں باندھوں بتا دو کوئی ذرا
دولھا بناؤں کیسے تجھے بول دل کے چین
اکبر جواں کی لاش پہ۔۔۔
صائب یہ پیری اور وہ اکبر جواں کی لاش
بیٹے کی میت پہ ہے دلِ شاہ پاش پاش
آنکھوں کا نور کھو گیا کہتے ہیں یہ حسین
اکبر جواں کی لاش پہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.