Akbar jawan abhi tere
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Mir Rehan Abbas
اکبر جواں ابھی تیرے مرنے کے دن نہ تھے
اپنے لہو میں آپ سنورنے کے دن نہ تھے
رکتا نہیں ہے سینے سے جو خون ہے رواں
اے لال یہ بتادو کے کس جا لگی سناں
اپنی ریاضتوں کا خزینہ تو دیکھ لوں
اکبر ہٹاؤ ہاتھ میں سینہ تو دیکھ لوں
اپنے لہو میں آپ۔۔۔
اکبر جواں ابھی تیرے۔۔۔
تم کیا گرے ہو مقتل میں اٹھ نہ سکا حسین
تم کو سناں لگی ہے اور زخمی ہوا حسین
آنکھیں جو تم چراتے ہو دل چھوڑتے ہیں ہم
تم ہچکیاں جو لیتے ہو دم توڑتے ہیں ہم
اپنے لہو میں آپ۔۔۔
اکبر جواں ابھی تیرے۔۔۔
اولاد پہ جب آتا ہے اٹھارہواں برس
خوشیاں سمیٹ لاتا ہے اٹھارہواں برس
دولہا سے آپ لگتے تھے ہر ایک لباس میں
دل ماں کا شاد رہتا تھا سہرے کی آس میں
اپنے لہو میں آپ۔۔۔
اکبر جواں ابھی تیرے۔۔۔
قاصد کھڑا ہے پہلو میں اے لال دیکھ لو
صغرا دعائیں دیتی ہے آمین تو کہو
رکھتا ہوں خط کو لاش پہ دلبر جواب دو
صغرا سلام کہتی ہے اکبر جواب دو
اپنے لہو میں آپ۔۔۔
اکبر جواں ابھی تیرے۔۔۔
اے شیر کبریاء مجھے قوت عطا کریں
لاش جواں اٹھانے کی ہمت عطا کریں
آنکھوں کا نور لے گئی نور نظر کی لاش
خیبر کے در سے وزنی ہے میرے پسر کی لاش
اپنے لہو میں آپ۔۔۔
اکبر جواں ابھی تیرے۔۔۔
بس اے رضا کلام کو کردو یہاں تمام
مشغول گریہ ہوگیا مجلس میں خاص و عام
صدمہ پدر کو اکبر ذیشان دیتے ہیں
صبحِ اذان دیتے تھے اب جان دیتے ہیں
اپنے لہو میں آپ۔۔۔
اکبر جواں ابھی تیرے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.