Akbar chupa rahe hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
شبیر آ رہے ہے مقتل میں
جس دم سنا کے بابا مقتل میں آ رہے ہیں
زخم جگر کو اپنے اکبر چھپا رہے ہیں
بولے ہوا سے اکبر کچھ خاک ہی اڑا دے
سینہ بماے سناں کے لللہ تو چھپا دے
ہم زخم کھا چکے ہے وہ زخم کھا رہے ہے
جس دم سنا کے بابا۔۔۔
کچھ دیر نیند کر لو جا گے ہو رات بھر کے
کچھ کام ہے پھپھی کے کچھ شام کے سفر کے
ہم راستوں کے کانٹے بابا ہٹا رہے ہے
جس دم سنا کے بابا۔۔۔
آنا ہے گر ضروری اس دشتِ بے امان میں
اس ابر تیر و خنجر اس بارش سناں میں
عابد کو بھیج دیجیےء کیوں آپ آ رہے ہیں
جس دم سنا کے بابا۔۔۔
برچھی کا پھل ہمارے سینے میں کب ہے اترا
یاد آ گیء تھی صغرا سینے میں درد اٹھا
سینے پہ ہاتھ رکھ کے یادیں بھلا رہے ہیں
جس دم سنا کے بابا۔۔۔
شہ نے پاے تسلی اکبر کو یہ صدا دی
اے میرے لال تم کو اب تک خبر نہ پہنچی
صغرا کا خط ہے آیا ہم دینے آ رہے ہیں
جس دم سنا کے بابا۔۔۔
آخر وہ وقت آیا شبیر لڑ کھڑاے
گھٹنوں کے بل وہ چل کے لاشے پسر پہ آے
بولے اے لال اٹھ جا ہم خط سنا رہے ہیں
جس دم سنا کے بابا۔۔۔
خط کیا سناتے مولا آنسوں بہا کے بولے
وہ کیسے خط سنے گا جو آنکھ تک نہ کھولے
ہم آنسوؤں سے صغرا خط کو مٹا رہے ہیں
جس دم سنا کے بابا۔۔۔
برچھی جگر سے کھینچی ابلا لہو کا دھارا
اکبر تڑپ کے بولے رک جایےء خدارا
صغرا سے کیا ہے کہنا ہم وہ بتا رہے ہیں
جس دم سنا کے بابا۔۔۔
لاشے پسر پہ مولا غش کھا کے گر چکے تھے
مقتل میں گونجتے تھے سیدانیوں کے نوحے
ریحان اور رضا جو دہراے جا رہے ہیں
جس دم سنا کے بابا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.