Akbar abhi hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Anj. Masoomeen
اکبر ابھی ہے راہ میں لیلیٰ پکار لو
اپنے پسر کے حسن کا صدقہ اتار لو
رن کی طرف جو جاتے ہے ہمشکل مصطفیٰ
بے آس ہو کے رہ گےء اب شاہ کربلا
رو رو کے کہہ رہی ہے یہ اب بنت مرتظی
اکبر ابھی ہے راہ میں۔۔۔
اٹھارہ سال پالا تھا جس نوجوان کو
رخصت حسین کرتے ہیں اس مہمان کو
ہمنام مرتظی وہ نبی کے نشان کو
اکبر ابھی ہے راہ میں۔۔۔
فرزند یہ تمہارا میرے دل کا چین ہے
تسکینِ قلب نور نگاہ حسین ہے
رخصت کے وقت زینب مضطر کا بین ہے
اکبر ابھی ہے راہ میں۔۔۔
رن کو چلا ہے یہ جو ہے ہمشکل مصطفیٰ
عباس سے جلال میں جرأت میں مرتظی
مادر ہے لیلیٰ باپ ہے سلطان کربلا
اکبر ابھی ہے راہ میں۔۔۔
سونچی تھی اس کا بیاہ رچانے کے واسطے
بستی نیء نیء میں بسانے کے واسطے
کیا تم جیو گے اشک بہانے کے واسطے
اکبر ابھی ہے راہ میں۔۔۔
بولے حسین بیٹے سے با چشمِ اشک بار
بیٹا ہمارے سینے سے لگ جاؤ ایک بار
تم جا رہے ہو دل پہ نہیں میرے اختیار
اکبر ابھی ہے راہ میں۔۔۔
زینب کا دل ہو دلبر شاہنشاہ زمن
اٹھارویں بہار ہے شاداب ہے چمن
بنت علی کےلب پہ ہر ایک بار ہے سخن
اکبر ابھی ہے راہ میں۔۔۔
میداں کی سمت جاتے ہیں اب اکبر حسیں
تھامے کلیجہ دیکھتے ہیں ان کو شاہ دیں
لیلیٰ سے روکے کہتی ہے یہ زینب حزیں
اکبر ابھی ہے راہ میں۔۔۔
تھامے کمر کو فاطمہ زہرا کا لال ہے
غم سے عجیب مادر مضطر کا حال ہے
مظہر پھپھی کے لب پہ فقط یہ مخال ہے
اکبر ابھی ہے راہ میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.