Aina ali akbar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Ali Rizvi Sachay
گھوڑے سے رن میں جب گرے ہم شکلِ مصطفے
بابا مرا سلام ہو دی آخری صدا
دوڑے کمر کو تھام کے یوں شاہ کربلا
آنکھوں سے اشک جاری تھے ہونٹوں پہ مرثیہ
آنکھوں کا نور کھو گیا ڈھونڈوں کہاں تجھے
بیٹا کہاں ہو آخری آواز دو مجھے
أَينَ علی اکبر أَينَ علی اکبر
آواز دو بابا کو کہاں ہو میرے دلبر
دکھتا نہیں آنکھوں سے صدا دو مجھے بیٹا
گرتا ہوں سنبھلتا ہوں جگر تھام کے تنہا
غربت پہ تیرے باپ کی ہنستے ہیں ستم گر
أَينَ علی اکبر۔۔۔
بیٹا اُٹھو سینے سے ذرا ہاتھ ہٹاؤ
دکھلاؤ ہمیں کیا ہوا ہم سے نہ چھپاؤ
یوں تھام کے دل ایڈیاں رگڑو نہ دلاور
أَينَ علی اکبر۔۔۔
کیا حال میرے لال تیرا ہو گیا ہائے
اللہ کسی باپ کو یہ دن نہ دکھائے
پیری میں فلک نے ہمیں دکھلائے جو منظر
أَينَ علی اکبر۔۔۔
کس طرح میرے لال تیرے درد کو تھاموں
سینے سے تیرے کس طرح برچھی کو نکالوں
آجائے کلیجا نہ کہیں سینے سے باہر
أَينَ علی اکبر۔۔۔
یوں چھوڑ کے غربت میں نہ جاؤ مجھے بیٹا
بس تم ہی ہو جینے کا سہارا میرے بیٹا
کس طرح تیرے لاش اُٹھاؤں میں دلبر
أَينَ علی اکبر۔۔۔
مادر سے تیری جا کے بھلا کیسے کہوں گا
اکبر کو تیرے رن میں قضا آ گئی لیلیٰ
وہ دیکھ رہی ہوگی تیری راہ کھلے سر
أَينَ علی اکبر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.