Ab ghar ko chalo
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Hadi Ali Khan Muslim
اب گھر کو چلو خاک سے اُٹھو علی اکبر
پہنچے جو حسین ابنِ علی لاشِ پسر پر
وہ حال نظر آیا چھُری چل گئی دل پر
یہ کہہ کے زمین پر گِر ے بیٹے کے برابر
آیا ہے پدر ہوش میں آئو علی اکبر
اب گھر کو چلو۔۔۔
ظالم کوئی بے کس کو بتاتا نہ تھا راستہ
چھایا تھا نگاہوں میں اندھیرا ہی اندھیرا
آیا ہے پدر پاس تیرے ٹھوکریں کھاتا
آکھوں کو ہوا کیا میری پوچھو علی اکبر
اب گھر کو چلو۔۔۔
کیوں پائوں رگڑتے ہو کہا ں درد اُٹھا ہے
بتلائو میری جان میرا دل بیٹھ رہا ہے
کیوں ہاتھ ہے سینے پہ کہاں زخم لگا ہے
پھٹ جائے گا دل باپ کا بولو علی اکبر
اب گھر کو چلو۔۔۔
نوحہ ہپے لبوں پر ہے آنکھوں سے خوں جاری
ہم کب سے کھڑے روتے ہیں بالی پہ تمہاری
کھایا نہ ترس تم نے غریبی پہ ہماری
دل باپ کا اس طرح نہ توڑو علی اکبر
اب گھر کو چلو۔۔۔
اے لال تصور میں تھا ماں کے تیرا سہرا
ہے دیر سے دروازئہ خیمہ پہ وہ دُکھیا
کیا جا کے بتائوں جو ہوا حال تمہارا
لیلیٰ سے کہوں کیا یہ بتائو علی اکبر
اب گھر کو چلو۔۔۔
اب دیر جو کی تم نے تو کرتی ہوئی زاری
بے پردہ بہن آئے گی مقتل میں ہماری
مادر کہیں مر جائے نہ صدمے سے تمہاری
بابا بھی نہیں جینے کے سُن لو علی اکبر
اب گھر کو چلو۔۔۔
کس طرح سے دیکھے یہ پدر حال تمہارا
قابو میں نہیں قلب الٹتا ہے کلیجہ
پہلو میں ہے دل باپ کا پتھر نہیں بیٹا
آگے میرے اس طرح نہ تڑپو علی اکبر
اب گھر کو چلو۔۔۔
تم چپ ہو تو چلتے ہیں میرے قلب پہ خنجر
کچھ حال لڑائی کا سناؤ میرے دلبر
بتلاؤ کہ کس طرح لگا زخم جگر پر
کچھ بات کرو آنکھ تو کھولو علی اکبر
اب گھر کو چلو۔۔۔
فریاد لبوں پر ہے اور اشکوں کی روانی
غربت بھی ضعیفی بھی ہے اور تشنہ دہانی
ہنستے ہیں میرے حال پہ دشمن میرے جانی
تنہا مجھے اس طرح نہ چھوڑو علی اکبر
اب گھر کو چلو۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.