Baba musafiron pe
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Ali Rizvi Sachay
بابا مسافروں پہ قیامت گزر گیء
پہنچے غریب جس گھڑی قبر حسین پر
یہ کہہ کے روے قبر پہ سجاد نوحہ گر
بابا سنو غریبوں سے اب حالت سفر
امت نے بیوطن کو پھرایا ہے در بدر
زینب دیار شان میں جب ننگے سر گیء
بابا مسافروں پہ۔۔۔
مقتل سے ہم چلے تھے تو ہاتھوں میں تھی رسن
بابا معاف کرنا نہ ہم دے سکے کفن
پامال ہو چکے تھے شہیدوں کے سب بدن
تھا کور خوں میں ڈوبا ہوا تھا تمام بن
اولاد فاطمہ سر مقتل بکھر گیء
بابا مسافروں پہ۔۔۔
مقتل سے اس طرح سے گزر گیا ہمیں
خوں کے سمندروں میں اتارا گیا ہمیں
بابا ہر ایک گام پہ مارا گیا ہمیں
باغی کی آل کہہ کے پکارا گیا ہمیں
رنج و الم کی تیغ جگر میں اتر گیء
بابا مسافروں پہ۔۔۔
بازار شام اور وہ لوگوں کا اژدھام
ایسے میں شمر لیتا تھا سیدانیوں کے نام
اس شام میں ہوا تھا اسیروں کا قتل عام
کوئی نہ تھا جو کرتا ہمارا بھی احترام
قاتل ہی دکھ رہے تھے جہاں تک نظر گیء
بابا مسافروں پہ۔۔۔
زندان شام پہنچے تو یہ بھی غضب ہوا
اماں رباب کرنے لگی گریہ و فغاں
اک کربلا کے بعد ہوی ایک کربلا
زنداں کے در سے دیتی تھی عمو کو جو صدا
آخر یہی ہوا کہ سکینہ بھی مر گیء
بابا مسافروں پہ۔۔۔
یہ کہہ کے غمزدہ نے کیا آخری سلام
رویینگے جا کے شہر مدینہ میں صبح و شام
صغرا کو دینگے کیسے تسلیء تشنہ کام
گھر جا کے یاد آیینگے جلتے ہوئے خیام
بستی ظفر غریبوں کی اشکوں سے بھر گیء
بابا مسافروں پہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.