Aaye jo is jahan
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Farhan Ali Waris
آے جو اس جہاں میں ہمشکل مصطفیٰ
ایسا لگا کہ چاند زمیں پر اتر گیا
آیا پھپھی کی گود میں جس وقت مہ لقا
پیشانی اسکی چوم کے زینب نے یہ کہا
چرچہ کرو جہان میں اس شاہ کار کا
تحفہ ملا حسین کو پروردگار کا
القصہ شہر شہر خبر ہو گیء یہ عام
اخبار میں لکھا گیا مضمون یہ تمام
اکبر پہ حسن کا کیا خالق نے اختتام
نہ تھا نہ ہے نہ ہوگا حسین ایسا والسلام
محبوب حق ہے شکل میں حیدر ہے شان میں
باہم ہوے نبی و علی پھر جہاں میں
پر اشک بادشاہ حلب کو سوا ہوا
اسکے خمیر میں یہ نمک تھا ملا ہوا
جس روز حلق یوسف آل عبا ہوا
اس روز وہ بھی مورد فضل خدا ہوا
دل میں علی کا عشق تھا یہ آرزو ملی
شاہ حلب کو چاند سی بیٹی آتا ہوی
شاہ حلب نے پای مسرت کی یہ خبر
اترا ہے آج سہنے محمد میں ایک قمر
خوش ہو گیا وہ شاہ حلب بس یہ سوچ کر
بیٹی کا میری عقد ہو اس چاند سے اگر
اس روز سے حلب کا وہ سلطان نام دار
تاروں کے بدلے چاند کیا کرتا تھا شمار
اٹھارہواں برس ہوا اکبر کو جب شروع
شاہ حلب کے بخت کا سورج ہوا طلوع
چاہا کہ رسم عقد کا یہ سال ہو وقوع
یہ سوچ کے حسین سے اس نے کیا رجوع
سلطان کے خط کو پایا جو زہرا کے چین نے
خط کا دیا جواب اسے یوں حسین نے
پہنچا تیرا عریضہ ہوی اطلاع اے حال
بیٹی کے عقد کا علی اکبر سے ہے خیال
ارمان ہے کمال تیری آرزو کمال
میں بھی دعا کروں گا مبارک ہو تجھکو سال
ہے مرضیء معبود تو انکار کیا میرا
تقدیر میں نہیں ہے تو اقرار کیا میرا
شاہ حلب کو پہنچا جونہی رقعہء امام
خوش ہو گیا نصیب کے کھلنے پہ نیک نام
زوجہ سے اپنی کرنے لگا اس طرح کلام
بیٹی کے عقد کی کرو تیاریاں تمام
دنیا و آخرت میں تیری آبرو بنے
بیٹی تیری حسین کے گھر کی بہو بنے
ساماں یہاں تو تھا علی اکبر کے بیاہ کا
نکلا ادھر وہ قافلہ یثرب کے شاہ کا
آتے ہی دشت میں ہوا نرغہ سپاہ کا
گھیرا عدو نے خیمہ رسالت پناہ کا
دلہن کے گھر میں لوگ غذا نوش کرتے تھے
دولہا کے گھر میں طفل میں فاقوں سے مرتے تھے
سہرا وہاں بنا علی اکبر کے واسطے
یاں موت نوحہ گر تھی اسی سر کے واسطے
پوشاک تھی وہاں دل حیدر کے واسطے
یاں بیکفنی تھی اسی دلبر کے واسطے
صدقے رسول زادیاں مردے پہ ہوتی تھی
زینب سرہانے پایینتی ماں بہنیں روتی تھی
اب ماجرا حلب کا سناؤں کہ کیا ہوا
شاہ حلب کا محل تھا کیسا سجا ہوا
یثرب کا قصد تھا دل میں چھپا ہوا
اتنے میں ایک شخص وہاں رونما ہوا
اس نے سنانی آن کے دی بادشاہ کو
مقتل میں مار ڈالا شاہ دیں پناہ کو
سلطان پٹک کے تاج پکارا کہ کیا ہوا
اس نے کہا حسین شہید جفا ہوا
گھرکاب اشک مظہر نورِ خدا ہوا
یعنی تباہ گلشنِ آل عبا ہوا
یہ بات سن کے رونے لگا پھر وہ نیک نام
شادی کے گھر میں ہو گیا مجلس کا اہتمام
مقتل میں پہنچا اہلِ حرم کا جو کارواں
دیکھا کہ ایک عروس ہے لاشوں کے درمیاں
بس اے دبیر ختم کرو مرثیہ یہاں
سر ننگے بال کھولے وہ کرنے لگی فغاں
جان حسین کی مجھے اس دم تلاش ہے
اے کربلا کدھر میرے دولہا کی لاش ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.