Baazar ke manzar ko
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Sajid Jafri
بازار کے منظر کو اور اپنے کھُلے سر کو
بھولی نہیں میں
اپنے بندھے ہاتھوں کو بیمار کے زیور کو
بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو ۔۔۔
اُٹھتی ہوئی آندھی کو وحشت کو بیاباں کو
چھُپتے ہوئے سورج کوتاریکی کو میداں کو
چلتے ہوئے خنجر کو نیزے پہ تیرے سر کو
بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو ۔۔۔
اک چاند تھا بدلی میں چھُپتا تھا نکلتا تھا
پردہ درِ خیمہ کا اُٹھتا کبھی گرتا تھا
وہ خیمئہ لیلیٰ سے ہائے رُخصتِ اکبر کو
بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو ۔۔۔
یاد آتا ہے دولہن کو غش کس طرح آئے تھے
اک گٹھڑی شاہِ والا جب کاندھوں پہ لائے تھے
اس لاش کی گٹھڑی کو اُس خوں بھری چادر کو
بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو ۔۔۔
فضّہ کو میرا بھائی ماں کہہ کے بُلاتا تھا
دم اُس کا میرے بھائی یہ نام پہ جاتا تھا
رُتبے میں وہ ماں بن کر آئی اُسی مادر کو
بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو ۔۔۔
لہراتے ہوئے نیزے اور شمر کا وہ بڑھنا
آ آ کے میرے پیچھے ہر بی بی کا وہ چھُپنا
شعلوں میں گھرے گھر کو چھِنتی ہوئی چادرکو
بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو ۔۔۔
یاد آتا ہے اک ماں کا وہ خاک میں دھنس جانا
اور آگ کے شعلوں میں وہ ماں کا جھُلس جانا
جلتے ہوئے جھولے سے لپٹی ہوئی مادر کو
بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو ۔۔۔
معصوم سکینہ کو بڑھتے ہوئے نیزوں کو
رزتے ہوئے گالوں کوبے رحم تماچوں کو
رزتے ہوئے کانوں کو کھچتے ہوئے گوہر کو
بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو ۔۔۔
جس رات میں تنہا تھی اُس رات کے ڈھلنے کو
ٹوٹے ہوئے نیزے کو اُس رات کے پہرے کو
بچوں کے سسکنے کو اور خاک کے بستر کو
بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو ۔۔۔
اُن شام کی گلیوں کو جن سے کھُلے سر گزرے
جس در سے گزرنے میں تھے سولہ پہر گزرے
دربار کے اُس در کواور شامیوں کے شر کو
بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو ۔۔۔
ہے اج بھی وہ گریہ ہے آج بھی وہ زاری
ہے آج بھی پتھر کے سینے سے لہو جاری
روتے ہوئے پتھر کو پتھر پہ رکھے سر کو
بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو ۔۔۔
آتی ہے نوید اب بھی آواز یہ زینب کی
ہے مجھ کو قسم صدیوں سے سوکھے ہوئے لب کی
پیاسے علی اصغر کو سوکھے ہوئے ساغر کو ب
بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.