Baab e saat par
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Rizwan Zaidi Party
باب ساعت پر کھڑی ہے فاطمہ کی بیٹیاں
شام کے دربار میں ہے جشن کی تیاریاں
وا حسینا کی صدا ہے عطرت اطہار میں
جانے کیا گزری ہے ان پر شام کے بازار میں
خون میں تر ہوگیء کونین کی شہزادیاں
باب ساعت پر کھڑی۔۔۔
صبح سے تھک جاتے ہیں جب شامی پتھر مار کر
شام ہوتے ہی چلے جاتے ہیں ظالم اپنے گھر
رات بھر قیدی کھڑے رہتے ہیں زیرِ آسماں
باب ساعت پر کھڑی۔۔۔
غم تو یہ ہے چار جانب کلمہ گو آباد تھے
چادریں پھر بھی نہ دی سر کو چھپانے کے لئے
سر کھلے کتنی اذانیں سن چکی ہے بی بیاں
باب ساعت پر کھڑی۔۔۔
کوئی جا کر یہ بتا دو بے کس و مظلوم کو
مل رہی ہے یہ یتیمی کی سزا معصوم کو
اب سکینہ کو طمانچے دے رہے ہیں لوریاں
باب ساعت پر کھڑی۔۔۔
خون میں باقر کے شامل غیرتِ عباس ہے
ہے ابھی کمسن مگر اس کو بھی یہ احساس ہے
بزم میں نوشی کہاں اور ثانی زہرا کہاں
باب ساعت پر کھڑی۔۔۔
بن گیا تاریخ غربت شام و کوفہ کا سفر
ظلم جتنے ہو گےء ہیں بے خطا سادات پر
مجرموں پر بھی کہاں ہوتی ہے اتنی سختیاں
باب ساعت پر کھڑی۔۔۔
عابد بیمار آنسوں خون کے برساتا رہا
بے ردائی کا اسے زینب کی غم کھاتا رہا
آتے آتے شام تک بوڑھا ہوا ہے یہ جواں
باب ساعت پر کھڑی۔۔۔
جا کے چہلم پر تکلم نے یہ دیکھا ہے سماں
کل جہاں سے بے ردا گزری تھی سب سیدانیاں
چادریں اب نام پہ زینب کے بٹتی ہیں وہاں
باب ساعت پر کھڑی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.