Sookha gala asghar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Shahid Baltistani
اے ماں کے لاڈلے بابا کے سہارے
بہنوں کے دُلارے اے چھ مہینے والے
تیر سے ایسے چھدا سوکھا گلا اصغر کا
منہ کھلا رہ گیا خوں بہتا رہا اصغر کا
تیر جب کھینچا تو منہ پھیر لیا روتے ہوئے
زخم شبیر سے دیکھا نا گیا اصغر کا
تیر سے ایسے چھدا۔۔۔
آسماں کانپ گیا اور زمیں رونے لگی
باپ نے چہرے پہ جب خون ملا اصغر کا
تیر سے ایسے چھدا۔۔۔
پشت کے چھالوں سے تر ہونے لگی جلتی زمیں
شاہ نے قبر میں جب لاشہ رکھا اصغر کا
تیر سے ایسے چھدا۔۔۔
تیر کے بعد لحد میں اُسے نیزا مارا
قتل اک روز میں دو بار اصغر کا
تیر سے ایسے چھدا۔۔۔
ساتھ بار آگے بڑھے پیچے ہٹے شہہ لیکن
لاشہ خیموں میں نا لے جایا گیا اصغر کا
تیر سے ایسے چھدا۔۔۔
کھینچا نیزے سے بدن اور زمیں پر رکھ کر
ہنس کے ظالم نے گلا کاٹ لیا اصغر کا
تیر سے ایسے چھدا۔۔۔
اک کھلونے کی طرح کھیلا اُچھالا پھینکا
شام کے بچوں کو سر جب بھی ملا اصغر کا
تیر سے ایسے چھدا۔۔۔
کیسے ذیشان بیاں کوئی کرے پیاس اُس کی
خشک لب ہوگئے جب نام لیا اصغر کا
تیر سے ایسے چھدا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.