Sheh kehte thay
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Ameer Hasan Aamir
شہ کہتے تھے کس منہ سے میں اب خیمے میں جاؤں
اصغر میں تجھے کیسے تیری ماں سے ملاؤں
حالات میرے ساتھ نہیں کربوبلا کے
کب تک میں رکھوں تجھکو یوں سینے سے لگا کے
گر تجھکو چھپاؤں بھی میں دامن میں عبا کے
دیکھے گی تیری ماں تجھے نزدیک سے آ کے
کس شہ سے بتا دے کہ تیرا زخم چھپاؤں
اصغر میں تجھے کیسے تیری ماں سے ملاؤں
شہ کہتے تھے کس منہ سے۔۔۔
اے نور کے پیکر میری آنکھوں کے اجالے
قربان میں تجھ پہ اے میرے ہنسلیوں والے
بس اتنا بتا دے اے میرے نازوں کے پالے
کس طرح کروں تجھکو میں مٹی کے حوالے
کن ہاتھوں سے اصغر میں تیری قبر بناؤں
اصغر میں تجھے کیسے تیری ماں سے ملاؤں
شہ کہتے تھے کس منہ سے۔۔۔
کس موڑ پہ لے آی ہے قسمت مجھے بیٹا
جاتی ہے نظر تجھ پہ تو پھٹتا ہے کلیجہ
افسوس تجھے غسل و کفن دے نہیں سکتا
اس بات کا دادی سے نہ کرنا کوئی شکوہ
کیا مجھ پہ گزرتی ہے تجھے کیسے بتاؤں
اصغر میں تجھے کیسے تیری ماں سے ملاؤں
شہ کہتے تھے کس منہ سے۔۔۔
اور اس سے بڑی کیا ہے میرے صبر کی تفسیر
خود پہ مجھے رونے نہیں دیتی میری تقدیر
قربان میں تجھ پہ اے میرے اصغر بے شیر
ہے وعدہء طفلی کے میرے پاؤں میں زنجیر
خیموں کی طرف کیسے قدم اپنے بڑھاؤں
اصغر میں تجھے کیسے تیری ماں سے ملاؤں
شہ کہتے تھے کس منہ سے۔۔۔
ہوتی ہے ہر ایک باپ کے دل میں یہ تمنا
ہو جاے جواں دیکھتے ہی دیکھتے بیٹا
جب جب بھی نظر آیا کبھی چاند سا چہرہ
چہرے پہ نظر آیا تمناؤں کا سہرا
منّت میں تیری کوئی بھلا کیسے بڑھاؤں
اصغر میں تجھے کیسے تیری ماں سے ملاؤں
شہ کہتے تھے کس منہ سے۔۔۔
کن آنکھوں سے دیکھوں میں تباہی کا یہ منظر
اک دن میں میرا ہو گیا تاراج بھرا گھر
جھلسے نہ بدن تیرا ستاتا ہے مجھے ڈر
کس طرح لٹاوں میں تجھے گرم زمیں پر
سینے سے لگاؤں بھی تو کب تک میں لگاؤں
اصغر میں تجھے کیسے تیری ماں سے ملاؤں
شہ کہتے تھے کس منہ سے۔۔۔
جس وقت سے چہرے پہ لہو تیرا ملا ہے
یہ کیسے بتاؤں تجھے کیا حال میرا ہے
غم تیرا میرے لال ہر ایک غم سے بڑا ہے
اس دن کا ہر ایک غم میری قسمت میں لکھا ہے
ہے کون مدد کے لئے میں کس کو بلاؤں
اصغر میں تجھے کیسے تیری ماں سے ملاؤں
شہ کہتے تھے کس منہ سے۔۔۔
میں دیکھ رہا ہوں کہ قیامت کے ہیں آثار
ہنستے ہیں میرے رونے پہ بیعت کے طلبگار
اس عمر کے بچوں سے تو کرتے ہیں سبھی پیار
گو اپنا کوئی خاص ہو یا پھر کوئی اغیار
بیٹا تیری خاموشی پہ قربان میں جاؤں
اصغر میں تجھے کیسے تیری ماں سے ملاؤں
شہ کہتے تھے کس منہ سے۔۔۔
آصف شہ مظلوم کا رہ رہ کے تڑپنا
تڑپاتا ہے اک باپ کا بیٹے سے لپٹنا
عامر ہمیں دن رات رلاے گا یہ جملہ
اصغر یہ بتا دے مجھے میں کیا کروں بیٹا
میں پیچھے ہٹوں یا کہ قدم آگے بڑھاؤں
اصغر میں تجھے کیسے تیری ماں سے ملاؤں
شہ کہتے تھے کس منہ سے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.