Ruk nahi jaana
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Safdar Abbas
بانو یہ پکاری اصغر ماں تجھ پہ ہے واری اصغر
دیکھو مقتل میں کہیں رک نہیں جانا اصغر
شام ہوتے ہی میری جاں چلے آنا اصغر
رات بھر خود ہی سوارا ہے میری جاں میں نے
صدقہ جھولے کا اتارا ہے میری جاں میں نے
رن میں بابا کو نہ تم اپنے رلانا اصغر
شام ہوتے ہی میری جاں۔۔۔
دیکھو مقتل میں کہیں۔۔۔
ماں ہوں میں خوب سمجھتی ہوں اشارے تیرے
لب جو سوکھے ہوے ہیں پیاس کے مارے تیرے
پیاس تیروں سے نہ تم رن میں بجھانا اصغر
شام ہوتے ہی میری جاں۔۔۔
دیکھو مقتل میں کہیں۔۔۔
لوریاں سن کے بھی کیوں نیند نہیں آتی ہے
کچھ تو بولو کہ میری جاں چلی جاتی ہے
صبح سے کرتے ہو پانی کا بہانا اصغر
شام ہوتے ہی میری جاں۔۔۔
دیکھو مقتل میں کہیں۔۔۔
دیکھو میدان میں برسات ہے پیکانوں کی
نسلیں اس دشت میں ملتی نہیں انسانوں کی
مثل اکبر کہیں دھوکہ نہیں کھانا اصغر
شام ہوتے ہی میری جاں۔۔۔
دیکھو مقتل میں کہیں۔۔۔
نہ سواری ہے نہ ہتھیار سجاے تم نے
پھر بھی مقتل کی طرف پاؤں بڑھاے تم نے
خود کو گرمی کی تپش سے ہے بچانا اصغر
شام ہوتے ہی میری جاں۔۔۔
دیکھو مقتل میں کہیں۔۔۔
تیر ہے خشک زباں سوکھے ہوے ہونٹ کماں
کام کچھ تیر تبسم سے بھی لینا میری جاں
ساتھ ہے میری دعاؤں کا خزانہ اصغر
شام ہوتے ہی میری جاں۔۔۔
دیکھو مقتل میں کہیں۔۔۔
ٹہر گردن پہ تیری ناد علی دم کر دوں
گھر سے میدان تلک مشکلیں کچھ کم کردوں
سامنے ظلم کے گردن نہ جھکانا اصغر
شام ہوتے ہی میری جاں۔۔۔
دیکھو مقتل میں کہیں۔۔۔
صفدر شاہ امم تم ہو ریحان عباس
علقمہ پر بھی ہے غازی کی وفا کا احساس
تم شجاعت کا علم گاڑ کے آنا اصغر
شام ہوتے ہی میری جاں۔۔۔
دیکھو مقتل میں کہیں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.