Nanhi si jaan
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
ننھی سی جان جان سے بے جان ہو گیء
اصغر ہنسے تو موت بھی حیران ہو گیء
بچوں سے جس کے دودھ کی خوشبو نہیں گیء
بے تیغ جس نے لشکرِ اعدا سے جنگ کی
جو حرملہ کے موت کا سامان ہو گیء
اصغر ہنسے تو۔۔۔
ننھی سی جان۔۔۔
سانسوں کی ٹوٹتی ہوئی ڈوری گواہ ہے
نوحہ جو بن گیء تھی وہ لوری گواہ ہے
اصغر کی جنگ فتح کا اعلان ہو گیء
اصغر ہنسے تو۔۔۔
ننھی سی جان۔۔۔
تشنہ لبی میں تیر کو سیراب کر دیا
پورا دل حسین کا ہر خواب کر دیا
تعبیر خواب مرضیء یزدان ہو گیء
اصغر ہنسے تو۔۔۔
ننھی سی جان۔۔۔
جھولے میں رہ کے شوق شہادت جوان تھا
اصغر کا شوق ماں کے لیےء امتحان تھا
ماں شوق پہ صغیر کے قربان ہو گیء
اصغر ہنسے تو۔۔۔
ننھی سی جان۔۔۔
جو تیر رن میں جانب قرآن تھا چلا
اصغر نے پیش کر دیا ہنستے ہوئے گلا
اس طرح سے حفاظت قرآن ہو گیء
اصغر ہنسے تو۔۔۔
ننھی سی جان۔۔۔
نوحہ لکھا ہے آپ نے اس بے زبان کا
خوشنودیء حسین ہے جس نوحے کا صلا
بخشش تو یوں بھی آپ کی ریحان ہو گیء
اصغر ہنسے تو۔۔۔
ننھی سی جان۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.