Nanha sa phool hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Farhan Ali Waris
انکار آسماں کو ہے راضی زمیں نہیں
اصغر تیرے لہو کا ٹھکانہ کہیں نہیں
میدان میں گرمی ہے مٹی ہے دھول ہے
جلتی ہے یہ زمیں تو ننھا سا پھول ہے
گویا پسر کی لاش سے سبط رسول ہے
جلتی ہے یہ زمیں تو ننھا سا پھول ہے
اصغر کی قبر کھود کر روتے رہے حسین
کہتے تھے ہاے لختِ جگر میرے دل کا چین
تیرے لیےء حسین بہت دل ملول ہے
جلتی ہے یہ زمیں۔۔۔
گویا پسر کی لاش۔۔۔
خیمے کی سمت کس طرح جاؤں میرے پسر
کس طرح تیرے مرگ کی بانو کو دوں خبر
اس کو تیرے بغیر تو مرنا قبول ہے
جلتی ہے یہ زمیں۔۔۔
گویا پسر کی لاش۔۔۔
جھولا جھلانے والی کو کیسے بتاؤں گا
بانو سے اس خبر کو میں کیسے چھپاؤں گا
زینب بھی منتظر ہے جو بنت بتول ہے
جلتی ہے یہ زمیں۔۔۔
گویا پسر کی لاش۔۔۔
اب ہم بھی مرنے جاتے ہیں اے لال الوداع
لاشہ ہمارا ہونا ہے پامال الوداع
بچ جاے دین نانا کا محنت وصول ہے
جلتی ہے یہ زمیں۔۔۔
گویا پسر کی لاش۔۔۔
اے فوج کبریا کے مجاہد تجھے سلام
کیا شان بے زبانی سے تو نے کیا کلام
تاریخ گفتگو کا انوکھا اصول ہے
جلتی ہے یہ زمیں۔۔۔
گویا پسر کی لاش۔۔۔
لاشہ ہے اس کے ہاتھ پہ خوں میں بھرا ہوا
جس کو لب فرات بھی پانی نہ مل سکا
جس کے لیےء رسول کے سجدے کو طول ہے
جلتی ہے یہ زمیں۔۔۔
گویا پسر کی لاش۔۔۔
زخمی تیرا گلا ہے لہو پھول سا بدن
خیمے کے در پہ بالی سکینہ تیری بہن
کہتی ہے تیرے بعد غموں کا نزول ہے
جلتی ہے یہ زمیں۔۔۔
گویا پسر کی لاش۔۔۔
ریحان نوحہ گوی نے فرحان کر دیا
مضبوط اور بھی میرا ایمان کر دیا
مٹ جاے ذکرِ شاہ یہ اعدا کی بھول ہے
جلتی ہے یہ زمیں۔۔۔
گویا پسر کی لاش۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.