Meri maa tum
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Shadman Raza
میری ماں تم میرا غم نہ کرنا
بے زباں نے یہ جھولے سے آواز دی
اپنے اصغر کا لو اب سلام آخری
میری ماں تم میرا۔۔۔
رن میں جس وقت ھل من کی گونجی صدا
مضطرب ہو گیا شہ کا مہ لقا
خیمہء شاہ میں شور گریہ اٹھا
اپنی ماں سے اشاروں میں کہنے لگا
میرے بابا کو ہے اب ضرورت میری
ان کی ہاتھوں پہ ہوگی شہادت میری
میری ماں تم میرا۔۔۔
فرض انصار اپنا اعدا کر چکے
تیغ کھا کر گرے سوے کوثر گےء
ایک عابد ہے بس وہ ہے غش میں پڑے
کون بابا کی جا کر مدد اب کرے
رن کو جانا ہے اب زمہ داری میری
آ گیء جان دینے کی باری میری
میری ماں تم میرا۔۔۔
لاش قاسم کے میداں میں ٹکڑے ہوے
ماں کی آنکھوں سے لیکن نہ آنسوں بہے
جان دینے پھپھی کے دلارے گےء
شکر کے واسطے ماں نے سجدے کےء
میں ہوں اصغر مگر ازم اکبر کا ہے
میری رگ رگ میں بھی خوں حیدر کا ہے
میری ماں تم میرا۔۔۔
بولنا تک ابھی مجھکو آیا نہیں
ننھے ہاتھوں سے کچھ بھی اٹھایا نہیں
تیر و شمشیر میں نے چلایا نہیں
جنگ کرنا کسی نے سکھایا نہیں
میرے ہاتھوں میں نیزہ نہ تلوار ہے
بس یہ سوکھی زباں میرا ہتھیار ہے
میری ماں تم میرا۔۔۔
جتنا دل چاہے رو میرے بابا پہ رو
نوجوانیء اکبر کا نوحہ پڑھو
جس کے شانے کٹے اس کا ماتم کرو
میرا کیا ہے سنو میری مادر سنو
چھ مہینے کا ہوں کچھ بھی دیکھا نہیں
سوچ لینا میں دنیا میں آیا نہیں
میری ماں تم میرا۔۔۔
میری خواہر سکینہ کو بتلایےء
اب نہ آیینگے عمو یہ سمجھاییےء
رات آے تو سینے سے لپٹایےء
میرا غم چھوڑیےء اس کو بہلایےء
کوئی ضد ہی کروں گا نہ روؤں گا میں
اب سے بابا کے سینے پہ سوؤں گا میں
میری ماں تم میرا۔۔۔
دیکھی مادر نے انور جو لاشے پسر
غم سے دل پھٹ گیا گر پڑی خاک پر
روکے کہنے لگی پیٹ کر اپنا سر
اے میرے لال اے میرے نورِ نظر
دیکھ کر تیرا گہوارہ جی لونگی میں
کہہ گےء ہو تو اب اشک پی لونگی میں
میری ماں تم میرا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.