Maa mujhe neend
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Mir Sajjad Mir
ماں کو جلتے ہوے خیموں میں وہ تڑپاتی ہے
ایک اجڑی ہوی تربت سے صدا آتی ہے
سینے لگالو لوری سنا دو مجھکو سلا دو ماں
ماں مجھے نیند آتی ہے
شام غریباں میں اصغر نے رن سے پکارا ماں
ماں نیند آتی ہے نیند آتی ہے
ماں مجھے نیند آتی ہے۔۔۔
رات ہے پہلی قبر کے اندر کیسے رہوں گا تنہا
تیرا آنچل پاس نہیں ہے کس سے بھلا کھیلوں گا
تو ہے کہاں پر یہ تو بتا دے کیوں ہے اندھیرا ماں
ماں نیند آتی ہے نیند آتی ہے
ماں مجھے نیند آتی ہے۔۔۔
اسکی کیا اولاد نہیں تھی پانی تھا جس سے مانگا
جس سے غیرت ہے ناقوں کو تیر وہ مجھکو مارا
ظلم تو دیکھو تیر وہ میرے قد سے بڑا تھا ماں
ماں نیند آتی ہے نیند آتی ہے
ماں مجھے نیند آتی ہے۔۔۔
تیری قسم ماں تیر گلے پر کھا کر میں نہیں تڑپا
دیکھ کے بہتا خوں میرے منہ سے بابا روے میں نہیں رویا
لیکن اے ماں تیر سے مجھکو درد ہوا تھا ماں
ماں نیند آتی ہے نیند آتی ہے
ماں مجھے نیند آتی ہے۔۔۔
جلتی زمیں پر مجھکو لٹا کر قبر بنائی میری
صبر سے بابا جان نے آدھی لاش چھپائی میری
لیکن مٹی ڈال کے منہ پر رو دیےء بابا ماں
ماں نیند آتی ہے نیند آتی ہے
ماں مجھے نیند آتی ہے۔۔۔
بھیا علی اکبر سے زیادہ زخمی ہے میرا سینہ
سہم گیا دل چونک گیا میں نیزہ جو مجھکو مارا
میں تو سکوں سے قبر میں اپنی سویا ہوا تھا ماں
ماں نیند آتی ہے نیند آتی ہے
ماں مجھے نیند آتی ہے۔۔۔
آخری کام تو کر دے یہ میرا قبر بنا دے میری
گھوڑوں سے پامال نہ کر دے لاش چھپا دے میری
کاٹ کے سر کو لے گےء ظالم رہ گیا لاشہ ماں
ماں نیند آتی ہے نیند آتی ہے
ماں مجھے نیند آتی ہے۔۔۔
نیزے سے سجاد تڑپ کر ماں سے اصغر بولے
کیسے اٹھاتی گود میں مجھکو ماں تو بندھے ہاتھوں سے
شام سے پہلے مر گیا میں بھی اچھا ہوا نہ ماں
ماں نیند آتی ہے نیند آتی ہے
ماں مجھے نیند آتی ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.