Kaha maadar ne
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Afzal Mirza
کہا مادر نے بس اتنا بتا دو پھر چلے جانا
علی اصغر مجھے صورت دکھا دو پھر چلے جانا
تبسم کا سمندر لے کے آ جاؤ میرے دلبر
لگی ہے آگ خیموں میں بجھا دو پھر چلے جانا
کہا مادر نے بس۔۔۔
جدھر بھی دیکھتی ہوں بس اداسی ہی اداسی ہے
میرا ویران گھر جنت بنا دو پھر چلے جانا
کہا مادر نے بس۔۔۔
تمہیں دیکھوں کلیجے سے لگاؤں بال سلجھاوں
بس اتنی دیر میرا جی بڑھا دو پھر چلے جانا
کہا مادر نے بس۔۔۔
تسلی کچھ تو ہو جاے میرے ٹوٹے ہوے دل کو
مجھے جو تم پہ گزری ہے بتا دو پھر چلے جانا
کہا مادر نے بس۔۔۔
تمہاری یاد میں صغریٰ مدینے میں تڑپتی ہے
لکھے کیا خط میں صغریٰ کو بتا دو پھر چلے جانا
کہا مادر نے بس۔۔۔
اندھیرے کھاے جاتے ہیں مجھے شام غریباں کے
مجھے تم چاند سی صورت دکھا دو پھر چلے جانا
کہا مادر نے بس۔۔۔
جدائی کا تصور کھاے جاتا ہے میرے دلبر
کہاں تک غم اٹھاے یہ بتا دو پھر چلے جانا
کہا مادر نے بس۔۔۔
جو تم نے حرملہ کے تیر سے کی گفتگو رن میں
وہ باتیں آ کے گھر بھر کو بتا دو پھر چلے جانا
کہا مادر نے بس۔۔۔
سنا ہے تیر کھا کے رن میں بیٹا مسکراے تھے
ہمارے سامنے بھی مسکرادو پھر چلے جانا
کہا مادر نے بس۔۔۔
یہی نوحہ تھا عشرت مادر اصغر کے ہونٹوں پہ
میری بگڑی ہوی دنیا بنا دو پھر چلے جانا
کہا مادر نے بس۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.