Jhoola tera khaali
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Hasan Sadiq
جھولا تیرا خالی ہے پریشاں ہے مادر
میں ہاتھوں کو پھیلاتی ہوں آ جا علی اصغر
نازک ہے گلا تیرا تُو پیاسا بھی بہت ہے
آ پیش کروں تجھ کو میں اشکوں کا سمندر
میں ہاتھوں کو پھیلاتی ہوں۔۔۔
جھولا تیرا خالی ہے۔۔۔
اب رات ہوئی لوٹ کے گھر کیوں نہیں آیا
جنگل ہے بیابان ہے رونا نہیں ڈر کر
میں ہاتھوں کو پھیلاتی ہوں۔۔۔
جھولا تیرا خالی ہے۔۔۔
مقتل میں تو برسات ہے تیروں کی میری جاں
پانی تجھے تیروں سے پلائیں گے ستم گر
میں ہاتھوں کو پھیلاتی ہوں۔۔۔
جھولا تیرا خالی ہے۔۔۔
مقتل کی ہوا کیسی خبر لائی ہے بیٹا
سُنتی ہوں کہ اک تیر لگا تیرے گلے پر
میں ہاتھوں کو پھیلاتی ہوں۔۔۔
جھولا تیرا خالی ہے۔۔۔
معصوم مجاہدنے لادی جنگ جو ریحان
ہتھیار تھا اک تیر تبسم کا لبوں پر
میں ہاتھوں کو پھیلاتی ہوں۔۔۔
جھولا تیرا خالی ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.