Jhoola hai ya taboot
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Mir Hasan Mir
جھولا ہے یا تابوت تمہارا علی اصغر
مادر کے لبوں پر ہے یہ نوحہ علی اصغر
پہلو میں میرے آج سے سوئے گی سکینہ
تم باپ کی آغوش میں سونا علی اصغر
جھولا ہے یا تابوت۔۔۔
سر سارے شہیدوں کے اٹھے نیزوں پہ لیکن
اٹھا تیرا نیزے پہ جنازہ علی اصغر
جھولا ہے یا تابوت۔۔۔
اس وقت سکینہ بھی کھڑی دیکھ رہی تھی
نیزوں نے جو ڈھونڈا تیرا لاشہ علی اصغر
جھولا ہے یا تابوت۔۔۔
اس طرح سے رخسار تیرے خون میں تر تھے
ماں دیکھ نہ پائی تیرا چہرہ علی اصغر
جھولا ہے یا تابوت۔۔۔
محسن کا انہیں دیجیو پرسہ میرے بیٹا
جب گود میں لیں گی تجھے زہرا علی اصغر
جھولا ہے یا تابوت۔۔۔
لائی ہوں تیری قبر سے مولا کو اٹھا کر
اٹھتے ہی نہیں تھے شہ والا علی اصغر
جھولا ہے یا تابوت۔۔۔
اکبر نہ سلا پائیں گے تم ضد نہیں کرنا
سینے کا ابھی زخم ہے تازہ علی اصغر
جھولا ہے یا تابوت۔۔۔
ماں بولی تکلم مجھے مارے گئے پتھر
امت نے دیا یوں تیرا پرسہ علی اصغر
جھولا ہے یا تابوت۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.