Haye haye ali asghar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Mir Sajjad Mir
ماں کے دلارے علی اصغر
آنکھوں کے تارے علی اصغر
آگ لگی ہے خیموں میں
اے میرے اصغر پیارے علی اصغر
ماں کہتی تھی جلتے ہوے جھولے سے لپٹ کر
ہاے ہاے علی اصغر
ہر سمت نظر آتا ہے مقتل میں اندھیرا
تم رات کو اٹھ جاؤ اگر نیند سے بیٹا
گھبرانا نہیں پاس ہے بھیا علی اکبر
ہاے ہاے علی اصغر
ماں کہتی تھی جلتے ہوے۔۔۔
جس تیر سے ناقے کو گراتا ہے زمیں پر
وہ تیر لگا ننھے سے حلقوم پہ آ کر
تم خون اگلتے رہے بابا سے لپٹ کر
ہاے ہاے علی اصغر
ماں کہتی تھی جلتے ہوے۔۔۔
قاتل تیرا مل جاے تو خود پوچھلوں اس سے
کیا جرم تھا چھ ماہ کے بچے کا بتا دے
اس نے تو بلایا بھی نہیں ماں مجھے کہہ کر
ہاے ہاے علی اصغر
ماں کہتی تھی جلتے ہوے۔۔۔
ظالم نے تجھے قبر سے اس طرح نکالا
سینے پہ لگا جس گھڑی اصغر تیرے نیزہ
میت کو تیری دیکھ کے بولا سر اکبر
ہاے ہاے علی اصغر
ماں کہتی تھی جلتے ہوے۔۔۔
اب تک میری آنکھوں سے وہ منظر نہیں جاتا
گردن سے تیری خون ٹپکتا رہا بیٹا
رومال بھی باندھا نہ گیا تیرے گلے پر
ہاے ہاے علی اصغر
ماں کہتی تھی جلتے ہوے۔۔۔
مجبور تھی گھر میں تیرے پانی بھی نہیں تھا
کس طرح دھلاتی بھلا میں خوں بھرا چہرہ
دادی سے شکایت نہیں کرنا میری جا کر
ہاے ہاے علی اصغر
ماں کہتی تھی جلتے ہوے۔۔۔
تم مر گےء یہ بات ابھی تک نہیں مانی
ضد کرتی ہے بھای کو پلاؤں گی میں پانی
کوزہ لیےء مقتل میں کھڑی ہے تیری خواہر
ہاے ہاے علی اصغر
ماں کہتی تھی جلتے ہوے۔۔۔
مارا ہے ستمگر نے سکینہ کو طمانچہ
غازی کی طرح تم سے بھی دیکھا نہیں جاتا
بند آنکھیں کیےء روتے ہو تم نوک سناں پر
ہاے ہاے علی اصغر
ماں کہتی تھی جلتے ہوے۔۔۔
سجاد وہ کہتی تھی چلا بھی نہیں جاتا
دو چار قدم بعد ہی گر جاتی ہوں بیٹا
میری بھی کمر خم ہے تیری لاش اٹھا کر
ہاے ہاے علی اصغر
ماں کہتی تھی جلتے ہوے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.