Ek maa ka ye nauha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Nasir Zaidi
اک ماں کا یہ نوحہ تھا آ جائو علی اصغر
دشوار ہوا جیناآ جائو علی اصغر
کیا دل پہ گزرتی ہے بتلائوں تمہیں کیسے
اس وقت کمر تھامے روتے ہوئے حسرت سے
کہتے تھے شاہِ والا آ جائو علی اصغر
اک ماں کا یہ نوحہ تھا۔۔۔
میں کیسے کہوں بیٹا اب ختم ہوا لشکر
شبیر اکیلے ہیں عباس ہے نہ اکبر
ہے وقت قیامت کا آ جائو علی اصغر
اک ماں کا یہ نوحہ تھا۔۔۔
اک بار چلے آئو پھر جانے نہیں دوں گی
گودی میںاٹھائوں گی سینے سے لگائوں گی
جنگل میں نہیں سونا آ جائو علی اصغر
اک ماں کا یہ نوحہ تھا۔۔۔
اے لال تیری صورت پھرتی ہے نگاہوں میں
لوٹ آئو کے اب لوری ڈھلنے لگی آہوں میں
خوں روتا ہے دل میرا آ جائو علی اصغر
اک ماں کا یہ نوحہ تھا۔۔۔
بے حال سکینہ ہے دیکھو تو ذرا اکبر
ہیں نیل تماچوں کے مظلوم کے گالوں پر
مر جائے نہ معصومہ آ جائو علی اصغر
اک ماں کا یہ نوحہ تھا۔۔۔
بکھرے ہوئے لاشے ہیں ہر ایک طرف رن میں
خوف آتا ہے اے بیٹا اُس اجڑے ہوئے بن میں
مقتل میں ہے سناٹا آ جائو علی اصغر
اک ماں کا یہ نوحہ تھا۔۔۔
میں راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر جو جھولا جھُلاتی تھی
دے دے کے تمہیں لوری میں جس میں سُلاتی تھی
ویران ہے وہ جھولا آ جائو علی اصغر
اک ماں کا یہ نوحہ تھا۔۔۔
ہے آخری سجدے میں وہ وارثِ پیغمبر
اب شمر کا خنجر ہے شبیر کی گردن پر
لُٹ جائے نہ گھر میرا آ جائو علی اصغر
اک ماں کا یہ نوحہ تھا۔۔۔
محشر تھا بپا گوہر اس دشتِ مصیبت میں
تڑپا تو ضرور ہو گا بے شیر بھی تُربت میں
جب ماں نے کہا ہو گا آ جائو علی اصغر
اک ماں کا یہ نوحہ تھا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.