Dar se deti thi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Nasir Zaidi
در سے دیتی تھی آواز مادر
رات ہونے کو ہے آؤ اصغر
شق اب ہے جدائی یہ دل پر
رات ہونے کو ہے آؤ اصغر
کتنا پر حول ہے یہ بیاباں
خوف دہشت ہے کتنی رمایاں
ڈر نہ جانا کہیں میرے دلبر
رات ہونے کو ہے۔۔۔
جاگ کر رات تم نے گزاری
صبح سے تھی عجب بیقراری
اب تو سوجاؤ پہلو میں آ کر
رات ہونے کو ہے۔۔۔
جب نہ پاؤں گی پہلو میں تم کو
نیند بیٹا نہ آے گی ہم کو
سو سکو گے نہ تم بھی بچھڑ کر
رات ہونے کو ہے۔۔۔
تیر گردن پہ تیری لگا ہے
کیا یہ سچ ہے جو میں نے سنا ہے
ماں کو دکھلاؤ تو رن سے آ کر
رات ہونے کو ہے۔۔۔
جو کہا میں نے تم نے سنا تھا
اور جواب اس کا ہنس کر دیا تھا
ہوگےء کیوں خفا گھر سے جا کر
رات ہونے کو ہے۔۔۔
جنگ میداں میں کی سب نے پیارے
پر نہ دیکھے تھے ایسے نظارے
کیا کیا تم نے رویا جو لشکر
رات ہونے کو ہے۔۔۔
کیا کوئی کہنا ان کا نہ مانا
ہو کے ناراض شاہ مدینہ
چھوڑ آے تمہیں رن میں سرور
رات ہونے کو ہے۔۔۔
تم نہ کچھ غم کرو میرے بیٹا
کیا ہوا گر جلا تیرا جھولا
دونگی لوری میں گودی میں لے کر
رات ہونے کو ہے۔۔۔
کیا ملک نے خبر یہ سنای
سب انیس شہ کربلائی
جاے جنت میں نوحہ یہ پڑھ کر
رات ہونے کو ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.