Aseer hoke chali
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Tableegh e Imamia
اسیر ہو کے چلی ہوں سلام اے بابا
یہاں سے جاتی ہوں زندانِ شام اے بابا
سُنو سکینہ سے غم کا پیام اے بابا
ہمارے جل گئے سارے خیام اے بابا
کہاں کہاں ہوں نہ جانے قیام اے بابا
ہے وجہ زیست تمہارا ہی نام اے بابا
اسیر ہو کے چلی۔۔۔
سُنا ہے شام کا دربار جب بھرا ہو گا
یزید کا سرِ دربار سامنا ہو گا
میرا تو بھائی بھی زنجیر سے بندھا ہو گا
پھوپھی جو پہنچیں گی دربار میں تو کیا ہو گا
اسیر ہو کے چلی۔۔۔
ہمارا کربوبلا میں قیام ہو نہ سکا
تمہارے دفن کا بھی انتظام ہو نہ سکا
پڑے ہیں خاک پہ کچھ اہتمام ہو نہ سکا
وہ خوف ہے کہ ادا بھی سلام ہو نہ سکا
اسیر ہو کے چلی۔۔۔
ابھی سے شام کو جانے کی ابتداء دیکھو
رسن سے گُھٹتا ہے بابا میرا گلا دیکھو
پھوپھی کے سر سے بھی تو چھین لی ردا دیکھو
یہ ابتداء ہے تو کیا ہو گی انتہا دیکھو
اسیر ہو کے چلی۔۔۔
جو پوچھو صبر تو میں فاطمہ کی پوتی ہوں
میں اپنے کُنبے کی مظلومیت کو روتی ہوں
تمہیں نہ پا کہ بہت دل فگار ہوتی ہوں
یہ کہہ کہ دشت بُریدہ پہ جان کھوتی ہوں
اسیر ہو کے چلی۔۔۔
نہ پوچھو حالتِ بیمارِ کربلا بابا
ہمارے ہیں یہی سالارِ قافلہ بابا
خوشی سے سہہ گئے ہر ظلم ہر جفا بابا
ہے آج شام کی منزل کا مرحلہ بابا
اسیر ہو کے چلی۔۔۔
یہ میرا آخری اب تو سلام لو بابا
جو ہو سکے تو گلا آ کے کھول دو بابا
ضرور آنا بلاؤں گی آپ کو بابا
دُعا کرو مجھے ایذا نہ اور ہو بابا
اسیر ہو کے چلی۔۔۔
ہیں اب بھی پیشِ نظر واقعاتِ کرب و بلا
وہی ہے شمر کا خنجر وہی ہے شِہ کا گلا
وہی ہے شام کا بازار اور وہی کوفہ
عروج اب بھی سکینہ کی
آ رہی ہے صدا
اسیر ہو کے چلی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.