Bain thay ye bano ke
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Hadi Ali Khan Muslim
بین تھے یہ بانو کے میرے بے زباں اصغر
شام ہو گیء بیٹا تم گےء کہاں اصغر
بیکسی میں کیا میری آس ٹوٹ جائے گی
اب تمہارے جھولے میں کس کو ماں جھلاے گی
دشت کے اندھیرے میں کیسے نیند آے گی
گھٹ رہی ہے سینے میں کب سے لوریاں اصغر
بین تھے یہ بانو کے۔۔۔
دیکھنے کو زندہ تھی ماں وہ کرب کا منظر
کیا ستم ہوا بیٹا آہ تیری گردن پر
تیر ظلم کیا کم تھا ہاے پھر چلا خنجر
گر پڑا نہ دھرتی پر کیوں یہ آسماں اصغر
بین تھے یہ بانو کے۔۔۔
تیرے جسم نازک پر پیاس کا اثر دیکھا
تیرا چاند سا چہرہ خوں میں تر بہ تر دیکھا
میں نے نوکِ نیزہ پر ہاے تیرا سر دیکھا
مر گیء نہ کیوں تیری بد نصیب ماں اصغر
بین تھے یہ بانو کے۔۔۔
کیا بیاں کروں بیٹا میرے قلب کی حالت
پھر رہی ہے آنکھوں میں تیری چاند سی صورت
کر سکی نہ جی بھر کے ہاے ماں تیری خدمت
شرم سار ہے تجھ سے آج تیری ماں اصغر
بین تھے یہ بانو کے۔۔۔
شاہ دیں نے دفنایا تیری لاش کو بیٹا
أہل ظلم کو لیکن یہ بھی کب گوارا تھا
قبر سے نکالا تھا تیرا خوں بھرا لاشہ
پھول سا وہ سر تیرا اور وہ سناں اصغر
بین تھے یہ بانو کے۔۔۔
رہ گیا ہے نظروں میں تیری پیاس کا منظر
ایک بوندھ بھی پانی میں نہ دے سکی دلبر
ماں نثار ہو جاتی تیرے خشک ہونٹوں پر
شدت عطش سے وہ تیری ہچکیاں اصغر
بین تھے یہ بانو کے۔۔۔
کیوں رہے نہ محشر تک دل فگار بانو کا
ہاں یہ ماتم اصغر ہے قرار بانو کا
کیا بیاں کرے احساں حال زار بانو کا
عمر بھر لبوں پر تھا ہاے میری جاں اصغر
بین تھے یہ بانو کے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.