Ay mere chand
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Shahid Baltistani
یہ رو کے کہتی تھی ام رباب مقتل میں
کہاں پہ سوتے ہو ماں کے بغیر جنگل میں
اے میرے چاند میری آنکھ کے تارے اصغر
کربلا آی تھی میں تیرے بھروسے اصغر
ہاے افسوس کے موجود نہیں ہے پانی
کیسی غربت ہے میری
ماں بھلا تیری نظر کیسے اتارے اصغر
اے میرے چاند میری۔۔۔
ہاتھ شبیر کی گردن پہ رکھے تھے جیسے
تیر بھی چلتے ہوے
فاطمہ آ کے کھڑی تھی تیرے آگے اصغر
اے میرے چاند میری۔۔۔
تم بھی عباس ہو کوثر پہ نہیں جانا ابھی
لاج رکھ لینا میری
ہے ابھی اہلِ حرم دشت میں پیاسے اصغر
اے میرے چاند میری۔۔۔
تیر ایک بار تو اس بار چلاے خنجر
میرے مظلوم پسر
ذبح دو بار ہوا کوئی نہ ایسے اصغر
اے میرے چاند میری۔۔۔
تم نے ہنس ہنس کے رلاے تھا جنہیں میرے پسر
ہاے پتھر لے کر
اب سکینہ سے وہی لیتے ہے بدلے اصغر
اے میرے چاند میری۔۔۔
شامیوں کی نہ نظر ان کے کھلے سر پہ پڑے
اپنی بہنوں کے لیےء
تم بھی قرآں پڑھو نوکِ سناں سے اصغر
اے میرے چاند میری۔۔۔
تیر کھاتے ہوے خود دیکھا ہے میں نے تم کو
اب تو یہ ظلم نہ ہو
کوئی پتھر نہ لگے سر پہ تمہارے اصغر
اے میرے چاند میری۔۔۔
پشت خیمہ پہ بناتے تھے لحد تیری پدر
جھک گیء میری کمر
چند لمحوں کو تیری لاش اٹھا کے اصغر
اے میرے چاند میری۔۔۔
لاش اٹھانی ہے مجھے بالی سکینہ کی ابھی
ماں تکلم بولی
کہہ دے ظالم سے میرے ہاتھ نہ باندھے اصغر
اے میرے چاند میری۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.