As-shaam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Anj. Hyderi Ali Basti
کسی بیمار کے ہونٹوں پہ رہا ایک ہی نام
ہائے الشام ہائے الشام ہائے الشام
جا بہ جا کوچہ و بازار میں لوگوں کا ہجوم
جیسے میلے کا سماں جیسے کسی عید کی دھوم
اور زنجیر میں جکڑا ہوا مظلوم امام
---ہائے الشام
نوک نیزہ پہ وہ قرآن سناتے ہوئے سر
اپنے چہروں کو وہ با لوں سے چھپاتے ہوئے سر
اور اس حال میں پھر اُم حبیبہ سے کلام
---ہائے الشام
سات سو کرسی نشینوں سے بھرا وہ دربار
حرم شاہ کے ہمراہ وہ بےبس لاچار
اسی لاغر کے گرجتے ہوئے لہجے کو سلام
---ہائے الشام
طشت میں فرق شہ دین پہ وہ حاکم کی چھڑی
دل و بیمار پہ وہ لمحہ قیامت کی گھڑی
ضبط کی آخری حد پر ہے امامت کا قیام
---ہائے الشام
سب اسیروں کے لئے ایک اندھیرا زنداں
اس اندھیرے میں تڑپ کر کسی بچی کی فغاں
کس کو نیند آے گی ایسے میں کہاں کا آرام
---ہائے الشام
رات کے پچھلے پہر باپ کو جو روتی تھی
مرگیا شام کے زندان میں پھر وہ بچی
ایک بھائی پہ گزرتے رہے کیا کیا آلام
---ہائے الشام
بعد عاشور جو روتا رہا چالیس برس
زہر ملوں سے مارا گیا آخر بے کس
آخری وقت بھی شاید یہی کہتا تھا امام
---ہائے الشام
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.