As sham as sham
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Safdar Abbas
عابد سے جب وطن میں کسی نے کیا کلام
گزرے قلق ذیادہ کہاں تم پہ یا امام
عابد نے تین بار کہا شام شام شام
الشام الشام الشام کہا
بازار میں جانا یاد رہا
پابند رسن بے پردہ حرم
بازار میں آی ماں بندی
ان گلیوں میں بازاروں میں
عابد پہ قیامت کیا گزری
پتھر دل ان بے دردوں کا
بازار سجانا یاد رہا
الشام الشام۔۔۔
جب یاد وہ منظر آتا تھا
سجاد کا دل خوں روتا تھا
آنکھوں سے لہو برساتا تھا
اک درد جگر میں ہوتا تھا
بیمار تڑپتا تھا کہہ کر
غربت کا زمانہ یاد رہا
الشام الشام۔۔۔
نیزوں پہ شہیدوں کے سر تھے
اور اہل حرم بے چادر تھے
لاچار حرم بازاروں میں
بس اہل ستم کی ضد پر تھے
پردیس میں خون روکر مجھ کو
یہ زخم اٹھانا یاد رہا
الشام الشام۔۔۔
ہے اہل شام تماشائی
ہم پر پتھر برساتے تھے
بازاروں سے درباروں تک
ہم سر کو جھکا کر جاتے تھے
غیرت کی سبب ان راہوں میں
سر اپنا جھکانا یاد رہا
الشام الشام۔۔۔
کھاتی تھی طمانچے ظالم کے
معصوم سکینہ راہوں میں
دل اب بھی لرز جاتا ہے میرا
وہ درد تھا اسکی آنکھوں میں
میری مظلوم سکینہ کا
غازی کو بلانا یاد رہا
الشام الشام۔۔۔
شبیر کی خواہر کو ظالم
باغی کی بہن جب کہتے تھے
دل خوں کے آنسوں سہتے تھا
جس وقت یہ طعنے سہتے تھے
وہ میری پھپھی کا اس غم سے
آشکوں کا بہانا یاد رہا
الشام الشام۔۔۔
عباس کی خواہر بے چادر
یہ بات تو خوں رلاتی تھی
زینب کے کھلے سر پر جب بھی
غازی کی نظر پڑ جاتی تھی
نیزے کی انی سے غازی کا
سر خاک پہ آنا یاد رہا
الشام الشام۔۔۔
سجاد کا یہ نوحہ لکھ کر
دل رونے لگا میرا صفدر
ناموس نبی بازاروں سے
کس طرح گیء ہوگی روکر
جس غم کے سبب عابد کو سدا
سر اپنا جھکانا یاد رہا
الشام الشام۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.