Asghar ko leke godh
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Mir Hasan Mir
اصغر کو لے کے گود میں کہتی ہے کربلا
یہ وہ علی ہے جسکو کبھی گھر نہیں ملا
چھ ماہ کے غریب مسافر کو سونپ کے
کہنے لگے حسین یہ قبرِصغیر سے
رکھنا ذرا خیال میرے تشنہ کام کا
یہ وہ علی ہے جس کو۔۔۔
مادر یہ بین کرتی تھی دل میں ہے یہ کسک
صغرا تمہاری گود سے آغوشِ قبر تک
اصغر کو موت نے کہیں رُکنے نہیں دیا
یہ وہ علی ہے جس کو۔۔۔
ماسوچتی تھی ڈھلتا ہے دن ہو رہی ہے شام
جھولے میں لوٹ آئے گا شاید وہ تشنہ کام
لیکن غضب ہوا کہ وہ جھولا بھی جل گیا
یہ وہ علی ہے جس کو۔۔۔
گلیوں میں شہرِ کوفہ کی بازارِشام میں
شیریں کے گھر کبھی کبھی دربارِشام میں
مرنے کے بعد بھی علی اصغر سفر میں تھا
یہ وہ علی ہے جس کو۔۔۔
ننھے سے سر کو یاس سے بس تکتے رہتے تھے
پھر خون رو کہ سیدِ سجاد کہتے تھے
میں وہ علی ہوں جس کا بھرا گھر اُجڑگیا
یہ وہ علی ہے جس کو۔۔۔
جانے لگا وطن جو غریبوں کا کارواں
مڑمڑ کہ کہتی جاتی تھی اک خالی گود ماں
رکھیو سنبھال کر اسے اے ارضِ نینوا
یہ وہ علی ہے جس کو۔۔۔
ڈر ہے یہ پھر سے کوئی سناں پر اٹھا نہ لے
لپٹا ہوا ہے اب بھی وہ سینے سے باپ کے
رو رو کے کہہ رہی ہے تکلم یہ کربلا
یہ وہ علی ہے جس کو۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.