Ankhein to zara
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
اُٹھ جائو علی اصغر
آنکھیں تو ذرا کھولو ایسے تو نہیں رُوٹھو
کچھ بولو میرے بھیا اصغر
اُٹھ جائو علی اصغر
لوری تجھے سُنائوں گی جھولا جھُلائوں گی
اشکوں سے تیرا چہرا اصغر میں دھُلائوں گی
آواز میری سُن کر للہ ذرا جاگو
کچھ بولو میرے بھیا اصغر
اُٹھ جائو علی اصغر۔۔۔
آنکھیں تو ذرا ۔۔۔
سورج تو جا چُکا ہے ہونے لگا اندھیرا
تاریک شام آئی بھولو نہ گھر کا راستہ
میں ڈر رہی ہوں بھیا جنگل میں ڈر نہ جائو
کچھ بولو میرے بھیا اصغر
اُٹھ جائو علی اصغر۔۔۔
آنکھیں تو ذرا ۔۔۔
اماں تو بے خبر ہیں میداں میں کیا ہوا ہے
لیکن مجھے خبر ہے زخمی تیرا گلا ہے
حاضر ہیں اشک میرے زخموں کو اپنے دھو لو
کچھ بولو میرے بھیا اصغر
اُٹھ جائو علی اصغر۔۔۔
آنکھیں تو ذرا ۔۔۔
خوشبو تیرے لہو کی سانسوں میں آ رہی ہے
تم آئو وگر نہ میری اب جان جا رہی ہے
دل کہہ رہا ہے میرا بھائی کو اپنے رو لو
کچھ بولو میرے بھیا اصغر
اُٹھ جائو علی اصغر۔۔۔
آنکھیں تو ذرا ۔۔۔
آ کر دیکھائو چہرا دم گھُٹ رہا ہے میرا
میں بھی تو دیکھوں بھیا ہے زخم کتنا گہرا
اب میرے صبر کو تم اصغر نہ اور تولو
کچھ بولو میرے بھیا اصغر
اُٹھ جائو علی اصغر۔۔۔
آنکھیں تو ذرا ۔۔۔
یہ خالی خالی جھولا مجھ کو ستا رہا ہے
تیرے بغیر اصغر دل ڈوبا جا رہا ہے
تم کو جو رن سے لائے آواز دوں میں کس کو
کچھ بولو میرے بھیا اصغر
اُٹھ جائو علی اصغر۔۔۔
آنکھیں تو ذرا ۔۔۔
ریحان جب سکینہ یہ بین کر رہی تھی
اصغر کی ماں بھی اُس کا نوحہ یہ سُن رہی تھی
کہتی تھی اے سکینہ یہ بات اب نہ بولو
کچھ بولو میرے بھیا اصغر
اُٹھ جائو علی اصغر۔۔۔
آنکھیں تو ذرا ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.