Amma mujhe chupa lo
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Hamid Baltistani
بازار میں یہ زینب فضّہ سے کہہ رہی ہے
اماں مجھے چھُپا لو
بازار میں یہ زینب فضّہ سے کہہ رہی
عباس کی بہن کو ہر آ نکھ ڈھونڈتی ہے
اماں مجھے چھُپا لو
دیکھا نہ مرتضیٰ نے جس کو بغیر چادر
نہ نامحرموں میں ہائے وہ آ گئی کھُلے سر
قتلِ حسین سے بھی دشوار یہ گھڑی ہے
اماں مجھے چھُپا لو
بازار میں یہ۔۔۔
ہمت نہیں ہے میری کیسے قدم بڑھائوں
اس شہرِ بے ایماں میں خود کو کہاں چھُپائوں
ہاتھوں میں لے کے پتھر اُمت کھڑی ہوئی ہے
اماں مجھے چھُپا لو
بازار میں یہ۔۔۔
بیمارِ کربلا کی آنکھوں سے خوں ہے جاری
یہ سوچ کر بدن میں لرزا ہے اُس کے طاری
بے پردہ شامیوں میں بیٹی بتول کی ہے
اماں مجھے چھُپا لو
بازار میں یہ۔۔۔
پوچھے تو کوئی ان سے چھینا ہے کیا تمہارا
پردیسی بے وطن ہے کیا جرم ہے ہمارا
کیسا ہے یہ تماشا یہ بھیڑ کیوں لگی ہے
اماں مجھے چھُپا لو
بازار میں یہ۔۔۔
اس نام سے ہمیشہ آئی ہے مجھ کو غیرت
پالا ہے تم نے مجھ کو تم جانتی ہو عادت
بازار زندگی میں زینب کہاں گئی ہے
اماں مجھے چھُپا لو
بازار میں یہ۔۔۔
ساحل پہ لاشِ غازی اُس دم تڑپ گئی تھی
سر سے چھِنی تھی چادر جب بنتِ مرتضیٰ کی
وہ رات تھی اندھیری یہ دن کی روشنی ہے
اماں مجھے چھُپا لو
بازار میں یہ۔۔۔
آیا خیال جب بھی آنسُو لگی بہانے
بازار کا تکلم کیسا اثر تھا جانے
اکثر وطن میں زینب یہ کہہ کے چونک اُٹھی ہے
اماں مجھے چھُپا لو
بازار میں یہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.