Amma fizza bata de
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Mir Hasan Mir
اماں فضہ بتا دے مجھکو
پتھر کیوں آرہے ہیں
کیسا ہے یہ چراغاں دل ڈوبے جارہے ہیں
کیا شام آ گیا ہے
اتنا چلے ہیں پیدل
کانٹوں پہ سارے قیدی
تھک جاتی چلتے چلتے
چلتی اگر زمیں بھی
پیروں کے آبلے بھی
آنسوں بہا رہے ہیں
کیا شام آ گیا ہے
اماں فضہ بتا دے۔۔۔
ہیں لوگ کس طرح کے
ہم سے دعا کرائیں
اے قیدیوں دعا دو
یہ دن نہ ہم پہ آ ئیں
لے کر دعائیں ہم سے
دل بھی دکھا رہے ہیں
کیا شام آ گیا ہے
اماں فضہ بتا دے۔۔۔
نیزوں پہ جتنے سر ہیں
اک سر ہے ان میں ایسا
آنکھیں ہیں بند اسکی
اور خاک پر ہے گرتا
عباس کا یہ سر ہے
تیور بتا رہے ہیں
کیا شام آ گیا ہے
اماں فضہ بتا دے۔۔۔
ماؤں کی گودیوں سے
لپٹے ہوئے ہیں بچے
ہیں ہاتھ رسیوں میں
ماؤں کے کیسے جکڑے
بچے جو گر رہے ہیں
وہ مرتے جارہے ہیں
کیا شام آ گیا ہے
اماں فضہ بتا دے۔۔۔
نیزے پہ رو رہا ہے
مشکل کشا کا بیٹا
نا محرموں کے لب پر
آیا ہے نام میرا
مجھکو کنیز زادے
یوں بھی رلا رہے ہیں
کیا شام آ گیا ہے
اماں فضہ بتا دے۔۔۔
سجاد کا کلیجہ
صد پاش ہو رہا ہے
اک ایک زخم ان کا
اس غم میں رو رہا ہے
زینب کا نام لے کر
اعداء بلا رہے ہیں
کیا شام آ گیا ہے
اماں فضہ بتا دے۔۔۔
آیا جو باب ساعت
روکے گئے مسافر
کہتا تھا شمر ان کو
کرنا ابھی نہ حاضر
دربار کو ابھی ہم
دلہن بنا رہے ہیں
کیا شام آ گیا ہے
اماں فضہ بتا دے۔۔۔
ہونے لگی اذانیں
کیسے سروں کو ڈھانپے
بازو بندھے ہوئے ہیں
خوں رہی ہیں آنکھیں
آنکھوں سے خوں کے رستے خوں میں نہا رہے ہیں
کیا شام آ گیا ہے
اماں فضہ بتا دے۔۔۔
ریحان قیدیوں میں
برپا تھا شور گریاں
پلکوں سے کر رہی تھیں
ماتم جو بنت زہرا
سجاد نوحہ خواں ہیں
نوحہ سنا رہے ہیں
کیا شام آ گیا ہے
اماں فضہ بتا دے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.