Mai safeere hussain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Muslim (a.s) recited by Shadman Raza
مسلم عقیل ہوں سفیر حسین ہوں
باطل خوف حق سے کلیجہ لرز اٹھا
بس ایک صدا سے حاکم کوفہ لرز اٹھا
احساس قلب حق ہوں
ضمیر حسین اسیر حسین ہوں
زینب کا انتخاب مشیر حسین ہوں
پہچان لو مجھکو میں سفیر حسین ہوں
میں سفیر حسین ہوں
مسلم عقیل ہوں میں جان لے جہاں
اشجول عرب کہے زمین و آسماں
ہاشم وراثتوں سے عظم ہے جواں
حیدری شچاعتیں لہو میں ہے رواں
میں وقت کا حسار ہوں
میں نور کی بہار ہوں
زمیں کا اختیار ہوں
فلک کا افتخار ہوں
میں عشق کا شعار ہوں
وفا کا اعتبار ہوں
دعا کا اختیار ہوں
میں شہ کا جاں نثار ہوں
میں سفیر حسین ہوں۔۔۔
اعتماد رکھتا ہے علی کا نورِ عین
کی مجھے امام نے سپارتوں کی زین
سر پہ ہے میرے دعاے شاہ مشرقین
میں اکیلا ذات میں ہوں لشکر حسین
میں حوصلے کی جست ہوں
وفاے حق پرست ہوں
مےء ولا سے مست ہوں
میں دیں کا بندوبست ہوں
میں اعتبار ہست ہوں
میں ہر حصارِ دست ہوں
میں کوفہء ضمیر میں
یزید کی شکست ہوں
میں سفیر حسین ہوں۔۔۔
یہ غلام شاہ دیں حق بتاے گا
شہ کا ساتھ دے گا جو فلاح پاے گا
جنگ جو کرے گا مجھ سے مات کھاے گا
تیغ سے میری نہ کوئی بچ کے جاے گا
میں دور انقلاب لبوں
میں تیغ کا شباب ہوں
میں نصرتوں کا خواب ہوں
میں خوں کا حساب ہوں
میں علم کی کتاب ہوں
میں جہل پر عزاب ہوں
حسین کی حسیں سفارتوں کا انتخاب ہوں
میں سفیر حسین ہوں۔۔۔
آ رہا ہوں چوم کر قدم امام کا
ہاتھ میں بلند ہے علم امام کا
لے کے آ رہا ہوں بھرم امام کا
کوفیوں پتہ ہے تم کو غم امام کا
زندگی ہے تشنہ کام
دن کا کب ہے احترام
قتل و خون ہے آج عام
مشکلوں میں ہے امام
چھوڑ کر وفا عوام
خواہشوں کی ہے غلام
جو بھی ہے میرا کلام
ہے حسین کا پیام
میں سفیر حسین ہوں۔۔۔
غیبت امام میں ہو ایسا انتظار
علم پر یقین ہو عمل پہ اعتبار
ناصران حق کا پھر سے ہونا ہے شمار
منتخب سفیر ہوگا کون اب کی بار
اگر ہو صوم اور صلات
حج و خمس اور زکوٰۃ
امر اور نہیں کی دین حق میں ساری ممکنات
ہو حسین ہی حسین
بھول جاے اپنی ذات
دیں پہ یوں عمل کرے
تو کہہ سکے یہ ہم یہ بات
میں سفیر حسین ہوں۔۔۔
مسلم غریب نے کیا ہے جب کلام
مرتے دم نصیب ہو زیارت امام
کربلا اٹھی کیا ہواؤں پر خیام
دیکھ کر حسین کو کہا ہے السلام
السلام و علیک یا ابا عبداللہ
السلام علیک یا بن رسول اللہ
چور چور جسم ہے جگر ہے پاش پاش
ہے کہاں پسر میرے کہاں کروں تلاش
قتل کر کے لے چلے ہیں مجھکو بد خماش
موت کے بھی بعد ہے سفر میں میری لاش
میں سفیر حسین ہوں۔۔۔
نازم اور رضی کی طرز سب سے ہے جدا
جعفر اور بخش بھای اور علی ضیا
جاویدانہ ہے لہجہ اب بھی سچے بھای کا
ہم ہے طفل مکتب اور یہ اساتذہ
یہ ہے عزا کا کارواں
یہ ہے لہن کی کہکشاں
یہ لہجہ و خیال میں غم حسین کی اذاں
یہ کربلا کی داستاں
یہ ذکر شہ کا سایباں
عظیم ہے جو نوحہ خواں انہیں کا ہوں میں ترجمہ
میں سفیر حسین ہوں۔۔۔
رضوان فرحان سب ہے نوحہ گر
ناصر و شجاع اور صفدر
شادماں شاہد و ندیم سرور
سب کے سب کی ایک ہی صدا ہے یہ قمر
میں ہوں عزا کے پکش پر
میں ہوں دلوں کے عرش پر
میں مجلسوں میں نوحہ گر
مجلس اور جلوس میں ہوں جلوہ گر
گلی گلی نگر نگر
میں آنسوؤں کا ہمسفر
میں پوری کائنات میں حسین کا پیام بر
میں سفیر حسین ہوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.